دُوسریشادی
دُوسریشادیکروںیانہیں؟
سوال:۔
میں دُوسری شادی کرنا چاہتا ہوں، ایک صاحب ہیں ان کی ایک لڑکی مطلقہ اور ایک بہو بیوہ ہے، انہوں نے ایک مرتبہ اِشارۃً مجھ سے کہا ’’جو بھی پسند ہو‘‘ لیکن حضرت! میرے والد صاحب کسی وجہ سے ان صاحب کو پسند نہیں کرتے۔ میں آج یہ سوچ رہا تھا کہ جاکر ان سے کہوں کہ اب میری تنخواہ چار ہزار ہوگئی ہے، اب آپ میرا دُوسرا نکاح پڑھادیں۔ حضرت! یہاں یہ بھی عرض کردوں کہ میرا ذاتی مکان نہیں ہے، میں کرایہ کے مکان میں رہتا ہوں اور والدین اور دو چھوٹے بہن بھائی بھی زیرِ کفالت ہیں۔ حضرت! اب آپ یہ مشورہ دیں کہ میں دُوسری شادی کروں یا نہیں؟ میری بیوی کہتی ہے کہ میں اپنی محبت کو تقسیم نہیں کرسکتی۔
جواب:۔
دُوسری شادی شرعاً جائز ہے، لیکن آج کے طبائع کمزور ہیں، حدودِ شرعیہ کی پابندی نہ آپ کی پہلی بیوی سے ہوسکے گی، نہ دُوسری سے، نہ خود آپ سے، اور نہ آپ کے والدین سے، اور حدودِ شرعیہ کی پابندی نہ ہونے کی وجہ سے سب گناہگار ہوں گے۔ اس لئے میرا مشورہ یہ ہے کہ دُوسری شادی کا خیال دِماغ سے نکال دیں۔ آپ نے اس ناکارہ کے ساتھ اپنی قلبی محبت کا ذِکر کیا ہے، اس کے جواب میں یہی عرض کروں گا جو حدیث میں آیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ آپ سے محبت فرمائے، جبکہ آپ نے محض اس کی خاطر مجھ سے محبت کی، اور میرا یہ مشورہ بھی اسی محبت کی بنا پر ہے۔

