دُوسریشادی
بیماربیویکےہوتےہوئےمجبوراًدُوسریشادیکرنا
سوال:۔
میری شادی ایک سیّدہ خاتون سے عرصہ دس سال پیشتر ہوئی تھی۔ شادی کے فوراً بعد سے لے کر آج تک وہ خاتون مختلف بیماریوں میں مبتلا ہے، جس میں عورتوں والی بیماری سرِفہرست ہے، جس کا علاج ہزاروں روپے لگاکر کراتا رہا ہوں، بالآخر بڑا آپریشن کروانا پڑا، نہ تو پہلے کوئی بچہ ہوا ہے اور اب تو بچے والی بات ہی ختم کردی گئی ہے۔ ایک آنکھ کا آپریشن ہوچکا ہے، دُوسری کا بھی ہوگا، صحیح دِکھائی بھی نہیں دیتا، اور بھی جسمانی بیماریاں ہیں۔ یہ تمام بیماریاں خاتون کو شادی سے پہلے سے تھیں، جو کہ ہم لوگوں سے چھپائی گئی تھیں۔ طویل عرصے سے عجیب اُلجھنوں میں گزارہ ہو رہا ہے۔ کبھی کسی نے سیّدہ خاتون سے شادی کرنے پر ڈرایا، آپ سے اور دیگر علمائے کرام سے معلوم کیا تو اس بات کو کوئی اہمیت نہ دی گئی۔ خاتون صاحبہ کو میں نے خود بہت سمجھایا کہ دُوسری شادی کرنے دو مجھے تاکہ دونوں کو سکون حاصل ہو، اللہ پاک کوئی خوشی ہمیں بھی ضرور دے گا۔ مگر خاتون صاحبہ سوائے رونے کے اور خودکشی کرلینے کے اور کچھ نہیں سمجھتی۔ نہ تو ماںباپ اس کے ہیں، نہ ہی میرے، دونوں یتیم ہیں۔ مگر اس کے بہن بھائی ہیں، سب اُلٹا سمجھاتے ہیں۔ بہن بھائی میرے بھی ہیں جو کہ پنجاب میں ہیں، اور میری غمی خوشی سے ان کو کوئی واسطہ نہیں۔ مجھے کیا کرنا چاہئے؟ کیا بیوی صاحبہ کو بغیر بتائے شادی کرلوں؟ اور اگر ایسا کرنے سے اس نے کچھ کرلیا تو دُنیا وآخرت میں کون جرم دار ہوگا؟ بہت سی باتیں آپ کو لکھ بھی نہیں سکتا، برائے مہربانی تفصیل سے جواب لکھ دیں۔
جواب:۔
اس محترمہ سے فیصلہ کرلیں کہ یا تو وہ دُوسری شادی کی اِجازت دے دیں، آپ ان کے حقوق بھی بدستور اَدا کرتے رہیں گے، اگر وہ اس پر راضی نہیں تو طلاق لے لیں۔ ان دو راستوں کے سوا تیسرا راستہ کیا ہوسکتا ہے؟

