بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

دُوسری‌شادی

دو‌شادیوں‌والے‌سے‌ایک‌بیوی‌کا‌یہ‌مطالبہ‌کہ‌’’کسی‌ایک‌کا‌ہوکر‌رہو‘‘‌غلط‌ہے

سوال:۔

’’الف‘‘ نے اپنی پہلی بیوی کی اِجازت سے دُوسرا نکاح کیا، اس عہد کے ساتھ کہ وہ اپنی پہلی بیوی اور اس کے بچوں کا ہر طرح سے خیال رکھے گا اور تمام ذمہ داریاں پوری کرے گا، جبکہ دُوسری بیوی نے بھی پہلی کی موجودگی میں ’’الف‘‘ کو بخوشی قبول کیا، جس کا اِندراج باقاعدہ نکاح نامے میں کیا گیا۔ دونوں کے گھر علیحدہ ہیں، دونوں سے بچے ہیں، مگر شادی کے چند ماہ بعد ہی حالات ایسے پیدا کردئیے گئے کہ ’’الف‘‘ صرف اپنی دُوسری بیوی کا ہوکر رہ گیا، پھر بھی کسی حد تک پہلی بیوی اور بچوں کی ذمہ داریاں نبھاتا رہا، تاہم چند سال بعد مزید حالات بگڑے اور ’’الف‘‘ کے اپنی پہلی بیوی سے اِزدواجی تعلقات تو منقطع ہو ہی گئے، مگر بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ دُوسری بیوی کو یہ بھی گوارا نہیں کہ ’’الف‘‘ اپنی پہلی بیوی کے علاج معالجے کا خیال کرے یا اسے کہیں اپنے ساتھ لے جائے۔ جبکہ پہلی بیوی کبھی بھی اپنی زبان پر حرفِ شکایت نہیں لائی اور اس نے ’’الف‘‘ کی دُوسری بیوی کو ہمیشہ عزّت دی ہے، اور اپنے بچوں کو بھی یہی درس دیا ہے۔ ’’الف‘‘ دونوں کے ساتھ گھریلو سکون سے رہنا چاہتا ہے مگر دُوسری بیوی کا مطالبہ یہ ہے کہ کسی ایک کے ہوکر رہو۔ مجھے قرآن وسنت کی روشنی میں اس کا حکم بتائیے۔

جواب:۔

جس شخص کی دو بیویاں ہوں، شرعاً اس پر یہ فرض عائد کیا گیا ہے کہ وہ دونوں کے ساتھ برابری کا برتاؤ کرے، اور یہ برابری چند چیزوں میں ہے:

۱:۔ جتنی راتیں ایک کے گھر رہے، اتنی ہی دُوسری کے گھر رہے۔

۲:۔ جتنا خرچ ایک کو دیتا ہے، اتنا ہی دُوسری کو دے، (بچوں کی کمی بیشی سے اس پر کمی بیشی ہوسکتی ہے، مگر بیویوں کا خرچ برابر رکھے)۔

۳:۔ دونوں کے ساتھ میل برتاؤ میں مساویانہ سلوک کرے، یہ جائز نہیں کہ ایک کے ساتھ تو اچھا سلوک ہو، اور دُوسری کے ساتھ بُرا، ان دونوں عورتوں کا بھی فرض ہے کہ اپنے ساتھ شوہر کے ترجیحی سلوک کا مطالبہ نہ کریں۔(۱)

حدیث شریف میں ہے کہ جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان کے ساتھ عدل واِنصاف کے مطابق مساویانہ سلوک نہ کرے، وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس حالت میں پیش ہوگا کہ اس کا آدھا دھڑ خشک ہوگا۔(۲)

جو عورت اپنے شوہر کو برابری کے سلوک سے منع کرتی ہے، وہ قیامت کے دن ظالموں کی صف میں اُٹھائی جائے گی، اور اس سے دُوسری سوکن کے ساتھ بے اِنصافی کا بدلہ دِلایا جائے گا، اور وہﵟ لَّعۡنَةُ ٱللَّهِ عَلَى ٱلظَّٰلِمِينَ ﵞکا تمغہ حاصل کرے گی۔ دُنیا کی چند روزہ جھوٹی راحت کے لئے آخرت کا دردناک عذاب خرید لینا بے عقلی ہے، ان دونوں عورتوں پر لازم ہے کہ شوہر کے سامنے ایک دُوسری کی بُرائی نہ کریں، ایک دُوسری کی غیبت نہ کریں، ایک دُوسری پر اِلزام تراشیاں نہ کریں، ایک دُوسری کی ہتک عزّت نہ کریں، ایک دُوسری پر حسد نہ کریں، ورنہ اپنے ساتھ اپنے شوہر کی بھی عاقبت برباد کریں گی۔

  1. (۱) ومما یجب علی الأزواج للنساء العدل والتسویۃ بینھنّ فیما یملکہ والبیتوتۃ عندھا للصحبۃ والموانسۃ لَا فیما لَا یملک وھو الحب والجماع، کذا فی فتاویٰ قاضیخان۔ (عالگمیری ج:۱ ص:۳۴۰، کتاب النکاح)۔
  2. (۲) عن أبی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: إذا کانت عند الرجل امرأتان فلم یعدل بینھما جاء یوم القیامۃ شقہ ساقط۔ (مشکوٰۃ ص:۲۷۹، باب القسم، طبع قدیمی کتب خانہ)۔