بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

دُوسری‌شادی

کیا‌مرد‌کی‌طرح‌عورت‌بھی‌ایک‌سے‌زائد‌شادیاں‌کرسکتی‌ہے؟

سوال:۔

پاکستان ٹی وی اور فلموں کی نکاح یافتہ مسلم اداکارہ عارفہ صدیقی نے ٹی وی رسالے میں انٹرویو میں یہ بیان دیا ہے کہ اسلام میں اگر مرد کو چار بیویاں کرنے کی اِجازت ہے تو پھر عورت کو بھی پندرہ مرد کرنے کی اِجازت ہونی چاہئے، عورت ایک مرد کو روزانہ دیکھ دیکھ کر بور ہوجاتی ہے۔

جواب:۔

اسلام میں مرد کو چار شادیوں کی اِجازت ہے، البتہ سب کے حقوق یکساں ادا کرنا لازم ہے۔ اور عورت عقلاً وشرعاً ایک ہی شوہر کی ہوسکتی ہے، ایک سے زیادہ کی نہیں۔(۱) اور جس صاحبہ نے پندرہ شوہروں کی اِجازت طلب کی ہے، اسے کہہ دیا جائے کہ یہ اَحکام مسلمان عورتوں کے لئے ہیں، ان صاحبہ کو اگر اس حکمِ شرعی پر اِطمینان نہیں، تو اسے کسی سے اِجازت لینے کی ضرورت نہیں، وہ اپنی خواہش کی تسکین کے لئے پندرہ چھوڑ پچاس شوہر رکھا کرے! جب آدمی کو دِین واِیمان اور شرم وحیا سے واسطہ نہ رہے، تو جو منہ میں آئے بک سکتا ہے، اور جو جی میں آئے کرسکتا ہے: ’’بے حیا باش، ہرچہ خواہی کن‘‘ (جب تمہیں شرم وحیا نہ ہو، تو جو جی چاہے کرو) حدیث کے الفاظ ہیں۔(۲)

  1. (۱) لَا یجوز للرجل أن یتزوّج زوجۃ غیرہ ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۸۰)۔
  2. (۲) عن أبی سعود قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔ إذا لم تستحی فاصنع ما شئت۔ (سنن أبی داوٗد ج:۲ ص:۳۰۵، کتاب الأدب، طبع ایچ ایم سعید)۔