بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

دُوسری‌شادی

دو‌بیویوں‌کے‌درمیان‌عدل‌واِنصاف‌کس‌طرح؟

سوال:۔

ایک شخص نے دُوسری شادی کی اور اس کی نیت یہی تھی کہ دونوں بیویوں کے درمیان عدل واِنصاف کروں گا، اور شریعت کے مطابق حقوق کی ادائیگی کروں گا، لیکن بدقسمتی سے پہلی بیوی نے میرے اس عزم کو خاک میں ملادیا اور ہر وقت لڑتی جھگڑتی رہتی ہے اور کسی صورت میں مجھے حقوق کی ادائیگی کرنے نہیں دیتی، رُوٹھ کر میکے چلی گئی ہے اور کہتی ہے کہ دُوسری بیوی کو چھوڑو، جب میں تمہارے ساتھ رہوں گی۔ اس صورت میں، میں کیا کروں؟ کس طرح دونوں کے درمیان عدل قائم کروں؟ برائے کرم تفصیل سے جواب مرحمت فرمائیں تاکہ پہلی بیوی شریعت کے مطابق مجھ سے معاملہ کرے، میں چھوڑنا نہیں چاہتا، بلکہ دونوں کے درمیان عدل قائم کرنا چاہتا ہوں، اس حق تلفی کا ذمہ دار کون ہوگا؟

جواب:۔

دو بیویوں کے درمیان عدل کا قائم رکھنا ہر زمانے میں مشکل ترین کام رہا ہے۔ ہمارے اس دور میں، جبکہ طبیعتیں کمزور، دِین داری کم، حوصلے پست، مشکلات اور مواقع زیادہ ہیں، یہ چیز گویا ناپید ہے۔ یہی دُنیا کا وہ پل صراط ہے جو تلوار سے زیادہ تیز اور بال سے زیادہ باریک ہے۔ آپ نے عدل واِنصاف قائم کرنے کے جذبے سے اس ’’کارِخیر‘‘ کا بیڑا اُٹھایا، لیکن آپ کو اس سے پہلے کسی صاحبِ تجربہ سے مشورہ کرلینا چاہئے تھا کہ آپ پر کہیں ’’نیکی برباد، گناہ لازم‘‘ کا مضمون تو صادق نہیں آئے گا۔ بہرحال اب جبکہ آپ یہ کوہِ گراں سر پر اُٹھاچکے ہیں، آپ کے لئے اِستقامت کی دُعا کرتے ہوئے چند مشورے عرض کرتا ہوں:

۱:۔ دونوں بیویوں میں سے کسی کو طلاق نہ دیجئے، بلکہ معاملے کو سلجھانے کی ہر ممکن کوشش کیجئے۔

۲:۔ پہلی بیوی اگر میکے بیٹھی ہے تو اس کو منانے کی ہر ممکن کوشش کیجئے (لیکن طلاق کی شرط پر نہیں)، اور اگر وہ کسی طرح مان کر نہ دے، تو اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیجئے، اور اِنتظار کیجئے کہ اسے کب عقل آتی ہے۔

۳:۔ دونوں کو الگ الگ مکان دیجئے، دونوں کے پاس باری باری رات رہا کریں اور اس کا اِہتمام واِلتزام کرلیجئے کہ دونوں میں سے کسی کے پاس دُوسری کی بات نہیں کیا کریں گے، نہ کسی سے دُوسری کے حق میں کوئی بات سنیں گے۔ دونوں کے ساتھ میل برتاؤ اور دیگر تمام تعلقات کانٹے کے تول برابری کریں، اور کسی کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ترجیحی تعلق روا، نہ رکھیں۔

۴:۔ شوہر کو طعن وتشنیع کے تیروں سے چھلنی کرنا عورتوں کا خاص وصف، اور ان کی خصوصی ادا ہے، اور عورت اس اسلحے کے ساتھ ہمیشہ مسلح رہتی ہے، اور وہ ایسے شگوفے چھوڑا کرتی ہے کہ آدمی پگھل کر رہ جاتا ہے۔ حضرت حاتم اصمؒ کا قول ہے:

’’نیک عورت دِین کا ستون، گھر کی رونق اور طاعتِ اِلٰہی میں مرد کی مددگار ہوتی ہے، اور مخالف عورت معمولی بات پر اپنے خاوند کے دِل کو گلادیتی ہے، اور اس کے نزدیک وہ ہنسی کی بات ہوتی ہے۔‘‘

آدمی کی سوختہ جگری کے لئے ایک بیوی کے تیر ونشتر کی بارش ہی کیا کچھ ہوتی ہے، جبکہ چشمِ بددُور! آپ نے اس مقصد کے لئے دو عدد خواتین کی ’’خدمات‘‘ حاصل کرلی ہیں، اب آپ کو پہاڑ سی اِستقامت کا مظاہرہ کرنا ہوگا، اب نازک مزاجی اور زودرنجی کو خیرباد کہہ دیجئے، ورنہ آپ کا گھر صبح وشام معرکۂ کارزار کا منظر پیش کیا کرے گا۔ حضرت شفیق بلخیؒ اپنی اہلیہ سے فرمایا کرتے تھے:

’’اگر تمام اہلِ بلخ میرے ممد ومعاون ہوں، اور تو میرے مخالف ہو تب بھی میں اپنے دِین کو محفوظ نہیں رکھ سکتا۔‘‘

آپ کی زندگی کا سب سے بڑا مجاہدہ یہی ہے، کیونکہ عورت اگر بدگوئی کی مریضہ ہو تو کوئی علاج اس کے لئے کارگر نہیں ہوتا۔ حضرت ایاس بن معاویہؒ کا قول ہے:

’’مجھے دو چیزوں کی دوا معلوم نہیں، پیشاب کو بند کرنے والی، اور بُری عورت۔‘‘

اس لئے آپ آئندہ کے لئے یہ فکر ہی ترک کردیں کہ آپ اپنی اس اہلیہ محترمہ کی اِصلاح فرماسکیں گے۔

اب ایک دو گزارشات ان محترمات کی خدمات میں پیش کرتا ہوں:

۱:۔ عورتوں کی یہ کمزوری ہے (اور بڑی حد تک یہ طبعی چیز ہے) کہ سوکن کا وجود ان کے لئے ناقابلِ برداشت ہوتا ہے، لیکن جس طرح ہم عقل وشرع کے تقاضے کی وجہ سے اور بہت سی ناگواریوں کو برداشت کرتے ہیں، ایک نیک خاتون کا فرض ہے کہ وہ اس ناگواری کو بھی طوعاً وکرہاً برداشت کرے اور اپنے گھر کا سکون اور لطف برباد نہ کرے۔ کسی عورت کے لئے سوکن کی طلاق کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشادِ گرامی ہے:

’’کوئی عورت اپنی بہن (یعنی اپنی سوکن) کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے، تاکہ جو کچھ اس کے پیالے میں ہے، اسے اپنی طرف اُنڈیل لے، اسے چاہئے کہ وہ نکاح کرلے جو اس کا مقدر ہے وہ اس کو مل جائے گا۔‘‘(۱)(مشکوٰۃ ص:۲۷۱)

اور صحیح بخاری کی حدیث میں ہے:

’’کسی عورت کے لئے حلال نہیں کہ وہ اپنی بہن (یعنی اپنی سوکن) کی طلاق کا مطالبہ کرے۔‘‘(۲)

اس لئے آپ کی اہلیہ طلاق کا مطالبہ کرکے نہ صرف اپنی بہن پر ظلم کر رہی ہیں، بلکہ خود بھی ایک فعلِ حرام کا اِرتکاب کرکے اپنے لئے دوزخ خرید رہی ہیں۔

۲:۔ قرآنِ کریم میں نیک عورتوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ وہ اپنے شوہر کی فرمانبردار ہوتی ہیں۔(۳) اور احادیث شریفہ میں بھی یہ مضمون بڑی کثرت سے آیا ہے۔(۴) حضرت احمد بن حربؒ کا قول ہے کہ اگر عورت میں چھ خصلتیں ہوں تو وہ نہایت صالح ہے: ۱-نمازِ پنج گانہ کی پابند ہو، ۲-شوہر کی تابعدار ہو، ۳-اپنے رَبّ کی رضامندی چاہنے والی ہو، ۴-اپنی زبان کو غیبت اور چغلی سے محفوظ رکھے، ۵-دُنیاوی سازوسامان سے بے رغبت ہو، ۶-تکلیف پر صبر کرنے والی ہو۔

حضرت عبداللہ بن مبارک کا اِرشاد ہے کہ: ’’عورتوں کا فتنہ وفساد جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈرایا ہے، یہ ہے کہ اپنے شوہروں کے لئے قطع رحمی کا سبب بنتی ہیں، اور اپنے شوہروں کو ذلیل کاموں اور رذیل پیشوں کا محتاج کرتی ہیں۔‘‘

ان اِرشادات کی روشنی میں آپ کی اہلیہ کو ایک مسلمان خاتون کا کردار اَدا کرنا چاہئے اور انہیں نئی شادی سے جو ذہنی صدمہ پہنچا ہے، اس کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے برداشت کرنا چاہئے، شادی ہوجانے کے بعد اَب طلاق کا مطالبہ نہایت بے جا چیز ہے، اس بے جا اِصرار کے ذریعے وہ اپنے مقام ومرتبہ کو اُونچا نہیں کر رہی ہیں، بلکہ خدا ورسول کی نظر میں بھی اور لوگوں کی نظر میں بھی اپنی کم حوصلگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں، میں ان کو مشورہ دُوں گا کہ وہ موجودہ حالات کے ساتھ سمجھوتہ کریں اور امن وسکون کے ساتھ اپنا گھر آباد کریں۔

  1. (۱) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا تسأل المرأۃ طلاق أختھا تستفرغ صحفتھا ولتنکح فان لھا ما قدر لھا۔ متفق علیہ۔ (مشکٰوۃ ص:۲۷۱، باب إعلان النکاح والخطبۃ والشرط)۔
  2. (۲) عن أبی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَا یحل لِامرأۃ تسأل طلاق أختھا ۔۔۔إلخ۔ (صحیح بخاری ج:۲ ص:۷۷۴، باب الشروط التی لَا تحل فی النکاح)۔
  3. (۳) ﵟ فَٱلصَّٰلِحَٰتُ قَٰنِتَٰتٌ حَٰفِظَٰتٞ لِّلۡغَيۡبِ بِمَا حَفِظَ ٱللَّهُۚ ﵞ النساء ٣٤۔
  4. (۴) عن أنس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: المرأۃ إذا صلّت الخمس وصامت شھرھا وأحصنت فرجھا وأطاعت بعلھا فلتدخل من أی أبواب الجنّۃ شائت۔ رواہ أبو نُعیم فی الحلیۃ۔ (مشکٰوۃ ص:۲۸۱)۔