دُوسریشادی
دوبیویوںمیںبرابریکاحکم
سوال:۔
اگر دُوسری شادی کرلی جائے اور پورا عدل نہ ہوسکے، یعنی خرچہ تو پورا دِیا جائے، لیکن اوقات میں کمی بیشی ہوجائے تو شریعت کیا حکم دیتی ہے؟
جواب:۔
اگر بیوی اپنے حقوق معاف کردے تو دو بیویوں میں برابری نہ کرنا جائز ہے،(۱) (جبکہ خرچ کے معاملے میں برابری ضروری ہے)۔ اور اگر بیوی اپنے حقوق معاف نہ کرے تو ایک رات ایک کے پاس اور دُوسری رات دُوسری کے پاس رہنا ضروری ہے۔ اس میں رعایت نہیں۔(۲)
- (۱) ولو ترکت قسمھا بالکسر أی نوبتھا لضرتھا صح۔ (الدر المختار مع الرد ج:۳ ص:۲۰۶)۔
- (۲) ویقیم عند کل واحدۃ منھنّ یومًا ولیلۃً لٰـکن إنما تلزمہ التسویۃ فی اللیل، حتّٰی لو جاء للأولٰی بعد الغروب وللثانیۃ بعد العشاء فقد ترک القسم۔ (الدر المختار مع الرد ج:۳ ص:۲۰۷)۔

