بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

دُوسری‌شادی

ایک‌سے‌زائد‌شادیوں‌کے‌لئے‌عدل‌واِنصاف‌قائم‌رکھنا‌ضروری‌ہے

سوال:۔

کیا اسلام نے دُوسری شادی کی اِجازت یا دُوسری شادیوں کی اِجازت ’’نظریۂ ضرورت‘‘ کے تحت دی ہے اور وہ بھی اِنصاف سے مشروط؟ یا برخلاف اس کے مرد اپنی مرضی کا خود مالک ہے؟

جواب:۔

’’نظریۂ ضرورت‘‘ کی اِصطلاح تو پاکستان میں اِیجاد ہوئی ہے، جس کی تعبیر ہر شخص اپنی خواہش کے مطابق کرسکتا ہے۔ حق تعالیٰ شانہ‘ نے ۔۔۔جو اِنسانی فطرت کے خالق ہیں۔۔۔ مرد کو چار تک شادیوں کی اِجازت دی ہے، تاہم اُسے پابند کیا ہے کہ اگر اس کے نکاح میں ایک سے زیادہ عورتیں ہوں تو ان کے درمیان ترازو کے تول سے عدل واِنصاف قائم رہے، کسی ایک کی طرف ذرا بھی جھکاؤ اِختیار نہ کرے، اور کسی کے ساتھ ترجیحی سلوک روا، نہ رکھے، اور اگر وہ میزانِ عدل کو قائم نہیں کرسکتا تو ایک پر اِکتفا کرے۔ حدیث شریف میں ہے کہ جو شخص دو بیویوں کے درمیان برابری نہیں کرتا وہ قیامت کے دن ایسی حالت میں آئے گا کہ اس کا یک پہلو خشک ہوگا۔(۱)

  1. (۱) عن أبی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: إذا کانت عند الرجل امرأتان فلم یعدل بینھما جاء یوم القیامۃ شقہ ساقط۔ رواہ الترمذی۔ (مشکوٰۃ ص:۲۷۹، باب القسم)۔