بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

دُوسری‌شادی

دُوسری‌شادی‌کرکے‌پہلی‌بیوی‌سے‌قطع‌تعلق‌کرنا‌حرام‌ہے

سوال:۔

ایک شخص شادی شدہ جس کے تین بچے ہیں، دُوسری شادی کا خواہش مند ہے، پہلی بیوی سے شروع ہی سے ذہنی ہم آہنگی نہیں ہے، جس کی وجہ سے گھر میں سکون نہیں ہے، دُنیا کی نظر میں دونوں ساتھ رہتے ہیں مگر تین سال سے دونوں میں علیحدگی ہوچکی ہے، اس عرصے میں اس شخص کو ایک ایسی لڑکی ملی ہے جس میں ایک اچھی اور گھریلو بیوی کی تمام خوبیاں موجود ہیں اور وہ اس لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے تاکہ باقی زندگی سکون سے گزار سکے۔ (اس شخص کی شادی ۲۰ برس کی عمر میں خاندانی دباؤ کے تحت ہوئی تھی) یہ شخص صاحبِ حیثیت ہے اور دونوں بیویوں کی ذمہ داری اُٹھاسکتا ہے اور خرچہ برداشت کرسکتا ہے۔ اب مسئلہ لڑکی کا ہے کہ وہ مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر کوئی فیصلہ کرنے سے قاصر ہے۔ مہربانی فرماکر آپ بتائیے کہ کیا دُوسری بیوی جو (عام طور پر لوگوں کی نظر میں بُری تصوّر کی جاتی ہے) اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی پہلی بیوی کا ’’حق مارنے‘‘ کی وجہ سے مجرم تصوّر کی جائے گی؟ کیا ہمارا مذہب ایسی صورت میں دُوسری شادی کی اجازت دیتا ہے؟

جواب:۔

دُوسری شادی میں شرعاً کوئی عیب نہیں،(۱) لیکن پہلی بیوی کے برابر کے حقوق ادا کرنا شوہر کے ذمہ فرض ہے،(۲) اگر دُوسری شادی کرکے پہلی بیوی سے قطع تعلق رکھے گا تو شرعاً مجرم ہوگا۔(۳) البتہ یہ صورت ہوسکتی ہے کہ وہ پہلی بیوی سے فیصلہ کرلے کہ میں تمہارے حقوق ادا کرنے سے قاصر ہوں، اگر تمہاری خواہش ہو تو میں تمہیں طلاق دے سکتا ہوں، اور اگر طلاق نہیں لینا چاہتی ہو تو حقوق معاف کردو۔ اگر پہلی بیوی اس پر آمادہ ہو کہ اسے طلاق نہ دی جائے وہ اپنے شب باشی کے حقوق چھوڑنے پر آمادہ ہے تو اس کو خرچ دیتا رہے، شب باشی اس کے پاس نہ کرے۔ اس صورت میں گنہگار نہیں ہوگا۔(۴) پھر بھی جہاں تک ممکن ہو دونوں بیویوں کے درمیان عدل ومساوات کا برتاؤ کرنا لازم ہے۔

  1. (۱) قال تعالٰی: ﵟ فَٱنكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ مَثۡنَىٰ وَثُلَٰثَ وَرُبَٰعَۖ فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا تَعۡدِلُواْ فَوَٰحِدَةً ﵞ النساء ٣۔
  2. (۲) یجب وظاھر الآیۃ أنہ فرض۔ نھر۔ وفی الشامی: فإن قولہ تعالٰی: ﵟ فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا تَعۡدِلُواْ فَوَٰحِدَةً ﵞ النساء ٣۔، أمر بالْإقتصار علی الواحدۃ عند خوف الجور فیحتمل أنہ للوجوب۔ (شامی ج:۳ ص:۲۰۱، کتاب النکاح، باب القسم)۔
  3. (۳) عن أبی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: من کان لہ امرأتان یمیل لِإحداھما علی الاُخریٰ جاء یوم القیامۃ أحد شقیہ مائل۔ (سنن نسائی، کتاب عشرۃ النساء ج:۲ ص:۹۴)۔
  4. (۴) کان عند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تسع نسوۃ کان یقسم منھنّ لثمان ولَا یقسم لواحدۃ، قال غیر عطا ھی سودۃ وھو أصح وھبت یومھا لعائشۃ حین أراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طلاقھا فقالت لہ: امسکنی قد وھبت یومی لعائشۃ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۸۰)۔ أیضًا: ولو ترکت قسمھا۔۔۔ أی نوبتھا لضرتھا صح۔ (الدر المختار مع الرد ج:۳ ص:۲۰۶)۔