بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

دُوسری‌شادی

دُوسری‌شادی‌کی‌شرعی‌حیثیت

سوال:۔

آج کل فلموں، اخباری مقالوں میں اکثر اسلام میں دُوسری شادی کی اِجازت کا بلاواسطہ مذاق اُڑایا جارہا ہے، اور یہ تأثر دِیا جاتا ہے کہ فلاں شخص نے دُوسری شادی کرکے گویا پہلی بیوی کے حقوق پر ڈاکا ڈالا، یا بالفاظِ دیگر ظلم کیا۔ اکثر پہلی بیوی رُوٹھ گئی اور میکے چلی گئی اور مطالبہ کیا کہ یا تو دُوسری کو طلاق دو یا مجھے، میں دُوسری کو برداشت نہیں کرتی۔ اور اس طرح قرآنی آیت کا مذاق اُڑاتی ہے۔ اس کے لواحقین اکثر دُوسری کو قتل کردیتے ہیں۔ پہلی عورت کا یہ عمل اور اس کے لواحقین کا رَدِّعمل اسلام کے اَحکامات کی رُوح سے ٹکراتا تو نہیں؟ اور ایسا کرنے سے وہ مسلمان کہلانے کی مستحق ہے؟ اور اس کے لواحقین کی بے جا حمایت اسلام کی رُوح کے منافی تو نہیں؟

۲:۔ مسلمان اُمراء غیرعورتوں سے اندرون اور بیرونِ ملک راہ ورسم پیدا کرتے ہیں، اس طرح زِنا کے مرتکب ہوتے ہیں، ان کی جائز منکوحیں ان کے اس عمل سے واقف ہوتے ہوئے بھی انہیں دُوسری شادی کی ترغیب نہیں دیتیں، اور حرام کاری سے نہیں بچاتیں، اس سلسلے میں کچھ روشنی ڈالیں۔

جواب:۔

حق تعالیٰ شانہ‘ نے مرد کو چار تک شادیاں کرنے کی اِجازت دی ہے۔(۱) اور اس اِجازت میں بہت سی حکمتیں ملحوظ ہیں۔ تاہم مرد پر یہ پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ بیویوں کے درمیان عدل اور مساوات کا برتاؤ کرے، اور جو شخص عدل نہ کرے، اس کے لئے سخت وعید آئی ہے۔(۲) لیکن غیرقوموں کے اِختلاط کی وجہ سے مسلمانوں نے اس معاملے میں اِفراط وتفریط کر رکھی ہے، اور یہ اِفراط وتفریط مردوں اور عورتوں کی جانب سے ہے۔ چنانچہ مرد یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ دُوسری شادی کرنے کی صورت میں بیویوں کے حقوق صحیح طور پر اَدا نہیں کرسکے گا، نہ دونوں کے درمیان عدل کرسکے گا، محض لطف اندوزی کے لئے دُوسرا نکاح کرلیتا ہے، اور اکثر وبیشتر ایسا نکاح خفیہ طور پر کیا جاتا ہے، جس سے بہت سی قباحتیں جنم لیتی ہیں، دِینی بھی، اخلاقی بھی اور معاشرتی بھی۔ یہ صورتِ حال قابلِ اِصلاح ہے اور ایسی حالت میں دُوسری شادی کرنا خانہ آبادی کے بجائے ’’خانہ بربادی‘‘ کا ذریعہ بن جاتا ہے، اور ایسا شخص اپنے دِین ودُنیا دونوں کو غارت کربیٹھتا ہے۔

اُدھر ہمارے معاشرے میں دُوسری شادی کو مطلقاً ایک عار اور عیب کی چیز سمجھ لیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ بعض حالات میں غیرشرعی جنسی اِختلاط کو تو برداشت کرلیا جاتا ہے، لیکن دُوسری شادی کا نام سننا بھی گوارا نہیں کیا جاتا۔ ظاہر ہے کہ یہ حکمِ خداوندی پر اِعتراض ہے، گویا یہ مسلمان کہلانے والے اللہ کو یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ’’آپ نے جو مردوں کو چار تک شادیاں کرنے کی اِجازت دی ہے، ہمارا دِل ودِماغ اس حکم کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہے۔‘‘ آپ نے جس صورتِ حال کا ذِکر کیا ہے، اس کا منشا بھی یہی ہے کہ دُوسری شادی کو بذاتِ خود ایک بُرائی تصوّر کرلیا گیا ہے، جسے کسی قیمت پر بھی برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ مگر یہ نظریہ اِسلامی نقطۂ نظر سے صحیح نہیں، اور اس غلط فکری ہی کا نتیجہ ہے کہ پہلی بیوی اپنا گھر خود برباد کرلیتی ہے، میکے میں جابیٹھتی ہے اور ساری زندگی کی خواری مول لے بیٹھتی ہے، مگر اپنے گھر شریفانہ طور پر آبادی کو قبول نہیں کرتی۔ اور بعض اوقات اس کی وجہ سے فتنہ وفساد، لڑائی جھگڑے اور قتل وغارت تک نوبت آجاتی ہے۔ گویا مرد کی دُوسری شادی کو قبول نہ کرنے کی وجہ سے عورت اپنی دُنیا بھی برباد کرلیتی ہے اور دِین کو بھی غارت کرلیتی ہے۔ اسی طرح عورت کی طرف داری میں اس کے عزیز واقربا بھی دِین ودُنیا کی بربادی مول لے لیتے ہیں۔ اس اِفراط وتفریط کے بجائے صحیح راہِ اِعتدال یہ ہے کہ مرد لوگ، محض معاشقہ کی وجہ سے دُوسری شادی کا اِرادہ نہ کریں، بلکہ بغیر شدید ضرورت کے دُوسری شادی کرنے پر جو قباحتیں مرتب ہوسکتی ہیں ان پر غور کرکے دُوسری شادی سے باز رہیں۔ اور اگر واقعی کسی کو دُوسری شادی کی ضرورت ہو، اور وہ دونوں بیویوں کے حقوق بھی ٹھیک ٹھیک ادا کرسکتا ہو، تو دُوسری شادی کو ایک معمول کی چیز سمجھا جائے اور اس پر اس شدید رَدّعمل کا اِظہار نہ کیا جائے جس کا ہمارے معاشرے میں رِواج ہے۔

الغرض! دُوسری شادی کو مطلقاً ایک عیب تصوّر کرنا اِسلام کے مزاج کے خلاف ایک جاہلی تصوّر ہے، اور اللہ تعالیٰ کی ان حکمتوں کی نفی کرنا ہے جن کی بنا پر اِسلام میں چار تک شادیاں کرنے کی اِجازت دی گئی ہے۔

۲:۔ دُوسرے سوال میں آپ نے جو کچھ لکھا ہے، یہ بھی دراصل اس غیراِسلامی تصوّر کا شاخسانہ ہے کہ دُوسری شادی ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ زِنا سے بھی بدتر ہے۔ یورپ اور مغربی ممالک میں دُوسری شادی ممنوع ہے، مگر عورتوں اور مردوں کے غیرقانونی اور غیراخلاقی اِختلاط پر کوئی پابندی نہیں۔ ہماری اعلیٰ سوسائٹی پر بھی اسی ذہنیت کی چھاپ ہے، وہ دُوسری شادی کو تو عیب سمجھتے ہیں اور ایسا کرنے والے کو مجرم تصوّر کرتے ہیں، لیکن غیرشرعی جنسی اِختلاط ان کی نظر میں کوئی بُرائی نہیں، ایسے لوگوں کے لئے نرم سے نرم جو لفظ اِستعمال کیا جاسکتا ہے وہ ’’ذہنی اِرتداد‘‘ ہے، ان کو اس ذہنیت سے توبہ کرنی چاہئے۔

  1. (۱) ﵟ فَٱنكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ مَثۡنَىٰ وَثُلَٰثَ وَرُبَٰعَۖ فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا تَعۡدِلُواْ فَوَٰحِدَةً ﵞ النساء ٣۔
  2. (۲) عن أبی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: إذا کانت عند الرجل امرأتان فلم یعدل بینھما، جاء یوم القیامۃ وشقہ ساقط۔ رواہ الترمذی وغیرہ۔ (مشکوٰۃ، باب القسم ص:۲۷۹)۔