بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

دُوسری‌شادی

دُوسری‌شادی‌کرنا‌شرعاً‌کیسا‌ہے؟

سوال:۔

بروزِ جمعہ۱۴؍اکتوبر محترمہ روبینہ شاہین کا سوال پڑھا جس کا عنوان دُوسری شادی ظلم یا عدل تھا۔ محترم مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب! میرا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جس کے مرد چار چار شادیاں کرتے ہیں۔ میرے والد محترم نے خود چار شادیاں کی ہیں، چونکہ ان کی نئی بیوی ہم سے ملنا یا ہماری کسی طرح کی بھی اِمداد پسند نہیں کرتی، اس لئے آج ہم پوری دُنیا میں رُسوا ہیں۔ والدہ کے پاس ایک مکان تھا، جس کی مدد سے ہم اپنا خرچہ چلا رہے ہیں۔ آپ یقین مانیں دس سال کے عرصے میں انہوں نے ہمیں ایک پیسہ نہیں دیا، جبکہ وہ خود ایک کروڑپتی شخص ہیں۔ میرے نزدیک دُوسری شادی سراسر ظلم ہے۔ اب آپ اس بات کا فیصلہ خود اچھی طرح کرسکتے ہیں۔ اور یہی نہیں، میں نے بہت سے مردوں کو یہی کچھ کرتے دیکھا ہے۔ دُوسری شادی کے بعد نہ پہلی بیوی کی پروا رہتی ہے، نہ بچوں کی، اب آپ خود فیصلہ کریں کیا میں نے کچھ غلط سوچا ہے؟

جواب:۔

اسلام نے جہاں مرد کو ایک سے زائد شادیوں کی اِجازت دی ہے، وہاں اس پر یہ پابندی بھی عائد کی ہے کہ اپنی بیویوں کے درمیان(۱) اور اولاد کے درمیان عدل واِنصاف کرے۔(۲) اگر وہ ایک طرف جھکاؤ کرے گا اور پہلی بیوی کے یا اس کی اولاد کے حقوقِ واجبہ ادا نہیں کرے گا، تو وہ خدا تعالیٰ کا بھی مجرم ہوگا، اور جن افراد کے حقوق ضائع کر رہا ہے، ان کا بھی مجرم ہوگا۔ اس کا علاج یہ ہے کہ اس کے دِل میں اِیمان پیدا کیا جائے اور قبر اور حشر کی پکڑ کا اِحساس اُجاگر کیا جائے۔ اور حکومت کا بھی فرض ہے کہ اس کو اہلِ حقوق کے حقوق ادا کرنے پر مجبور کرے۔

  1. (۱)ﵟ فَٱنكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ مَثۡنَىٰ وَثُلَٰثَ وَرُبَٰعَۖ فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا تَعۡدِلُواْ فَوَٰحِدَةً ﵞ النساء ٣۔ عن أبی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: إذا کانت عند الرجل امرأتان فلم یعدل بینھما، جاء یوم القیامۃ وشقہ ساقط۔ رواہ الترمذی وغیرہ۔ (مشکوٰۃ، باب القسم ص:۲۷۹)۔
  2. (۲) عن النعمان بن بشیر أنّ أباہ أتی بہ إلٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال: إنی نحلت ابنی ھٰذا غلاما، فقال: أکل ولدک نحلت مثلہ؟ قال: لَا! قال: فارجعہ۔ وفی روایۃ۔۔۔ قال: فاتقوا اللہ واعدلوا بین أولَادکم ۔۔۔إلخ۔ (مشکٰوۃ ص:۲۶۱، باب العطایا)۔