دُوسریشادی
دُوسریشادیحتیالوسعنہکیجائے،کرےتوعدلکرے
سوال:۔
کیا پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے دُوسری شادی کرسکتا ہوں؟ آیا اس میں بیوی کی رضامندی ضروری ہے یا کہ شرعاً ضرورت نہیں؟ اس بارے میں جواب تفصیل سے دیں۔
جواب:۔
دُوسری شادی کے لئے پہلی بیوی کی رضامندی شرعاً شرط نہیں۔(۱) لیکن دونوں بیویوں کے درمیان عدل و مساوات رکھنا ضروری ہے۔(۲) چونکہ عورتوں کی طبیعت کمزور ہوتی ہے اور گھریلو جھگڑا فساد سے آدمی کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے، اس لئے عافیت اسی میں ہے کہ دُوسری شادی حتی الوسع نہ کی جائے، اور اگر کی جائے تو دونوں کو الگ الگ مکان میں رکھے اور دونوں کے حقوق برابر ادا کرتا رہے، ایک طرف جھکاؤ اور ترجیحی سلوک کا وبال بڑا ہی سخت ہے، حدیث شریف میں ہے کہ:
’’جس کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان کے درمیان برابری نہ کرے تو وہ قیامت کے دن ایسی حالت میں آئے گا کہ اس کا آدھا دھڑ ساقط اور مفلوج ہوگا۔‘‘(۳) (مشکوٰۃ شریف ص:۲۷۹)
- (۱)ﵟ فَٱنكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ مَثۡنَىٰ وَثُلَٰثَ وَرُبَٰعَۖ فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا تَعۡدِلُواْ فَوَٰحِدَةً ﵞ النساء ٣۔
- (۲) یجب أن یعدل فیہ أی فی القسم بالتسویۃ فی البیتوتۃ وفی الملبوس والمأکول ۔۔۔إلخ۔ (الدر المختار مع رد المحتار ج:۳ ص:۲۰۲، باب القسم، کتاب النکاح)۔
- (۳) عن أبی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: إذا کانت عند الرجل امرأتان فلم یعدل بینھما، جاء یوم القیامۃ وشقہ ساقط۔ رواہ الترمذی وغیرہ۔ (مشکوٰۃ، باب القسم ص:۲۷۹)۔

