بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جہیز

طلاق‌کے‌بعد‌جہیز‌کا‌سامان‌کس‌کا؟

سوال:۔

میری بھانجی کی شادی کچھ عرصہ قبل ایک شخص سے ہوئی، اس شادی کو بمشکل سات ماہ کا عرصہ گزرا کہ اس نے اپنے گھر والوں کی بار بار شکایات جو کہ خط، ٹیلی فون اور دستی خطوط کے ذریعے اِرسال کئے تھے، تنگ آکر میری بھانجی کو تین طلاقیں اِرسال کردیں۔ یہ طلاق اس نے کیسٹ میں بھر کر اِرسال کیں۔ کیسٹ کو میری ممانی لائی اور میری چھوٹی ہمشیرہ کو لاکر دی، جسے ان لوگوں نے سنا۔ اب آپ سے یہ مؤدّبانہ عرض ہے کہ اس طلاق نامے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا اس طرح سے طلاق ہوگئی ہے؟ نیز لڑکی کا مہر اور دیگر سامان جو لڑکی کو ماںباپ کی جانب سے شادی کے موقع پر دِیا جاتا ہے، مثلاً چند تولے سونا، کپڑا، برتن اور دیگر گھریلو سامان جو کہ خالص لڑکی کے نام ہے، ان تمام اشیاء کے بارے میں بھی قرآن وسنت کی روشنی میں بتائیں کہ ان پر لڑکی کا حق ہے یا نہیں؟

جواب:۔

اگر محمد اَیوب نے طلاق کے الفاظ اپنی زبان سے ادا کئے ہیں تو تین طلاق واقع ہوگئیں۔(۱)

۲:۔ لڑکی کا پورا مہر شوہر کے ذمے لازم ہے، کیونکہ لڑکی اپنے شوہر کے گھر آباد ہوچکی ہے۔(۲)

۳:۔ جہیز کا جو سامان لڑکی کے میکے والوں نے دیا تھا، وہ لڑکی کی ملکیت ہے،(۳) اس کا واپس کرنا سسرال والوں کا فرض ہے، اور ان کا اس سامان کے دینے سے اِنکار کرنا حرام اور گناہِ کبیرہ ہے۔(۴)

  1. (۱) أما تفسیرہ شرعًا فھو رفع قید النکاح حالًا أو مآلًا بلفظ مخصوص، کذا فی البحر الرائق، وأما رکنہ فقولہ أنت طالق ونحوہ، کذا فی الکافی۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۳۴۸، کتاب الطلاق)۔
  2. (۲) والمھر یتأکد بأحد معان ثلاثۃ الدخول والخلوۃ الصحیحۃ وموت أحد الزوجین سواء کان مسمی أو مھر المثل حتّٰی لَا یسقط منہ شیء إلّا بالْإبراء من صاحب الحق، کذا فی البدائع۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۳۰۲)۔
  3. (۳) کل أحد یعلم أن الجھاز للمرأۃ إذا طلّقھا تأخذ کلہ ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۳ ص:۱۵۸)۔
  4. (۴) ﵟ وَلَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ ﵞ البقرة ١٨٨۔