جہیز
طلاقکےبعدجہیزکاساماناورخرچہواپسلینا
سوال:۔
طلاقیں ہونے سے پہلے ایک معاہدہ ہوا کہ لڑکا طلاقیں بھی دے گا اور جہیز کے سامان کی قیمت اور شادی خرچہ بھی ادا کرنا ہوگا، جبکہ جہیز کی قیمت سے تقریباً دو گنا اُوپر لگائے گئے ہیں، اور لڑکے کا زیور عورت کے پاس ہے، طے یہ ہوا کہ لڑکے والے جہیز وشادی خرچ کی قیمت ادا کریں گے، جبکہ لڑکی والے زیورات واپس کردیں گے، جب زیور کی قیمت لگائی گئی تو مارکیٹ سے کم۔ اس معاہدے میں بزور لڑکی والوں نے یہ قیمت لگائی ہے، اور لڑکے والوں سے جبراً یہ سب کچھ کروایا ہے، اور زیادتی کرکے کچھ رقم ان پر ڈالی ہے۔ اَز رُوئے شریعت لڑکے والے رقم دینے کے ذمے دار ہیں؟
جواب:۔
جہیز کی واپسی لڑکی کا حق ہے، جس حالت میں وہ سامان ہے، واپس کردیا جائے، اس کی قیمت لینا اور شادی کا خرچہ وصول کرنا ان کے لئے حلال نہیں۔(۱) قبر اور حشر میں جب کسی کا مال ناحق کھانے کا اس سے مطالبہ ہوگا تو پولیس والے اس کی کوئی مدد نہیں کریں گے، بلکہ وہ خود بھی پکڑے ہوئے آئیں گے۔
- (۱) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألَا لَا تظلموا! ألَا لَا یحل مال امریء إلّا بطیب نفس منہ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۵۵ طبع قدیمی)۔ عن أبی موسٰی قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن اللہ لیملٰی الظالم حتّٰی إذا أخذہ لم یفلتہ، ثم قرأ: وکذٰلک أخذ ربک إذا أخذ القرٰی وھی ظالمۃ۔ متفق علیہ۔ (مشکوٰۃ ص:۴۳۴)۔ عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لتؤدن الحقوق إلٰی أھلھا یوم القیامۃ حتّٰی یقاد للشاۃ الجلجاء من الشاۃ القرناء۔ رواہ مسلم۔ (مشکٰوۃ ص:۴۳۰)۔

