جہیز
جہیزپرکسکاحقہے؟
سوال:۔
میری شادی اکتوبر ۱۹۹۳ء میں ہوئی، زندگی اچھی طرح گزر رہی تھی، نہ مجھے کوئی شکایت تھی، نہ بیوی کو مجھ سے۔ پھر ۲۷؍جنوری کو لڑکی کے گھر والے ضد کرکے اس کو اپنے ساتھ حیدرآباد لے کر گئے، اس کے جانے پر میرے علاوہ میرے گھر کا کوئی فرد راضی نہیں تھا۔ مؤرخہ ۲۸؍جنوری کو واپسی پر ان لوگوں کا ایکسیڈنٹ ہوگیا، جس میں بیوی کے علاوہ تین آدمی اور زخمی ہوئے، میری بیوی تو آٹھ دن تک ہوش میں نہیں آئی اور اسی حالت میں اس کا اِنتقال ہوگیا۔ اب اس کے گھر والے جہیز کا سامان واپس مانگ رہے ہیں، اس سلسلے میں آپ کی رائے معلوم کرنی ہے کہ قانون کی رُو سے اور شریعت کی رُو سے ان کا سامان مانگنے کا حق بنتا ہے؟
جواب:۔
آپ کی مرحومہ بیوی کو اس کے میکے والوں نے جو سامان دیا تھا، اور جو کچھ اس کے سسرال والوں نے یا ان کے عزیزوں نے اس کو دِیا تھا، وہ سب اس کا ترکہ ہے۔(۱) اسی طرح اگر اس کا مہر اَدا نہیں کیا گیا تو وہ بھی اس کے ترکے میں شامل ہے۔ الغرض وہ تمام چیزیں جو مرحومہ کی ملکیت میں تھیں اب اس کا ترکہ ہے جو اس کے شرعی وارثوں پر تقسیم ہوگا۔
اگر شادی شدہ لڑکی فوت ہوجائے اور اس کی اولاد نہ ہو تو اس کے ترکے کا نصف اس کے شوہر کا ہے، اور نصف اس کے والدین کا۔(۲) اس لئے مذکورہ بالا چیزوں کا آدھا اس کے والدین کو پہنچادیں اور آدھا خود رکھ لیں۔
- (۱) کل أحد یعلم أن الجھاز للمرأۃ إذا طلّقھا تأخذ کلہ وإذا ماتت یورث عنھا ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۱ ص:۱۵۸)۔
- (۲) ﵟ وَلَكُمۡ نِصۡفُ مَا تَرَكَ أَزۡوَٰجُكُمۡ إِن لَّمۡ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٞۚ ﵞ النساء ١٢۔

