جہیز
دُلہنکوتحائفملنااوراسپرکسکاحقہے؟
سوال:۔
ایک سوال کے جواب میں جمعہ کے اخبار میں لکھا تھا کہ دُلہن کا غیرمردوں سے سلامی لینا رِشوت ہے، میں یہ معلوم کرنا چاہتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا بڑا شکر ہے کہ ہمارے ہاں اس طرح دُلہن کو باری باری لائن لگاکر تو غیرمرد نہیں دیکھتے، ہاں البتہ عورتیں تحفے کی جگہ اکثر پیسے دیتی ہیں، اسی طرح دیور وغیرہ جو کہ نامحرَم ہیں وہ اپنی مرضی سے اگر سونے کی یا کوئی بھی چیز دیں تو اسے لینا کیسا ہے؟ کیونکہ نہ لینے یا اسے خیرات وغیرہ کرنے سے بہت بدمزگی ہوتی ہے، یہاں تک کہ لوگ دُلہن کا جینا حرام کردیتے ہیں، کیونکہ چیز دینے کے بعد بھی لوگ اس پر نظر ضرور رکھتے ہیں، اور پھر تو صرف لڑائی کا بہانہ ہاتھ آجاتا ہے۔ آج کل عقل تو کوئی اِستعمال کرتا نہیں ہے۔ اسی طرح ایک اور رُخ یہ بھی ہے کہ دُلہن کی بہنیں اپنے بہنوئی سے ’’نیگ‘‘ کی صورت میں پیسے لیتی ہیں، وہ پیسے لینا کیسا ہے؟ جبکہ اس میں کوئی بیہودہ حرکت نہ کی جائے؟
جواب:۔
عورتیں اگر تحفے کے طور پر دیں اور واپس لینے کی توقع نہ رکھیں تو لینا جائز ہے، ورنہ نہیں۔ دیور وغیرہ عزیز جو نامحرَم ہوں، ان سے پردہ کیا جائے۔(۱) عزیزداری کے طور پر کوئی ہدیہ دیں تو لے سکتے ہیں، مگر ضروری نہ سمجھا جائے۔
- (۱) وعن عقبۃ بن عامر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إیاکم والدخول علی النساء! فقال رجل: یا رسول اللہ! أرأیت الحمو؟ قال: الحمو الموت! متفق علیہ۔ (مشکوٰۃ، باب النظر إلی المخطوبۃ وبیان العورات ص:۲۶۸)۔

