جہیز
عورتکاحقِملکیتاوراپنےمالمیںتصرفکرنا
سوال:۔
پاکستان کی معاشرت میں شادی کے بعد عورت کی ملکیت کی (اور لائی ہوئی) چیزوں کو شوہر اور سسرال والے اپنے تصرف میں سمجھتے ہیں، بلکہ بیچاری عورت کو یہ تک اِختیار بھی بہت کم رہ جاتا ہے کہ وہ اپنی ملکیت یا وسائل شرعی سے حاصل کئے ہوئے مال کو مستحق اقربا کے ساتھ سلوک یا صدقہ خیرات میں اپنی محض مرضی سے اِستعمال کرسکے۔ کیا شادی کے بعد ایک بیوی حدودِ شریعت میں کمائے ہوئے اپنے مال پیسے کی مالک نہیں؟
جواب:۔
شریعت کی رُو سے مرد اور عورت کی ملکیت الگ الگ ہے، جو چیزیں عورت اپنے میکے سے لاتی ہے وہ اس کی ملکیت ہیں اور جو مال خود اس نے حلال اور جائز طریقے سے کمایا ہو، یا شوہر نے یا کسی عزیز نے اس کو تحفے کے طور پر دِیا ہو، اس کی بھی عورت مالک ہے۔
گھر میں اِستعمال کی جانے والی چیزیں خواہ مرد کی ملکیت ہوں یا عورت کی، ان کو گھر کے تمام اَفراد اِستعمال کیا کرتے ہیں، تو اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ بیوی کی طرف سے ’’میری تیری‘‘ کا سوال نہیں ہوا کرتا، اس لئے اگر سسرال والے ان چیزوں کو اِستعمال کرتے ہیں تو اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ بیوی کی طرف سے ان کے اِستعمال کی اِجازت ہوتی ہے۔ تاہم اگر عورت اس معاملے میں بخل سے کام لیتی ہے، تو اس کی چیز اس کی اِجازت کے بغیر اِستعمال کرنا جائز نہیں۔(۱)
عورت کو اپنے مال میں سے صدقہ وخیرات کرنے کا پورا حق ہے، تاہم اس کو شوہر کے مشورے سے صدقہ وخیرات کرنی چاہئے۔
- (۱) لَا یجوز لأحد أن یتصرف فی ملک الغیر بغیر إذنہ۔ (قواعد الفقہ ص:۱۱۰)۔

