جہیز
اپنےسامانکیحفاظتاورسسرالکےسامانکیحفاظتنہکرنےوالیکاشرعیحکم
سوال:۔
عام طور پر زیادہ تر بہوئیں اپنے جہیز کی چیزیں دُوسروں کو اِستعمال کے لئے دینا تو درکنار خود اپنے اِستعمال میں بھی نہیں لاتیں، اپنے جہیز کی ہر چیز کو سلیقے سے رکھنا کہ کہیں خراب نہ ہوجائے یا ٹوٹ نہ جائے، اگر کوئی چیز خراب ہوجائے یا ٹوٹ جائے تو اُلٹا سسرال والوں پر اِلزام لگانا کہ انہوں نے میری چیز خراب کردی۔ اور سسرال کی تو ہر چیز لڑکی بے تکلفی سے اِستعمال کرتی ہے، کسی چیز کی پروا نہیں ہوتی کہ کوئی چیز کیسے پڑی ہے اور کہاں پڑی ہے؟ اگر پروا ہے تو صرف اپنے جہیز کی ہے کہ اس کو نہ کچھ نقصان ہوجائے، تو مولانا صاحب! آپ ایسی ’’بہوؤں‘‘ کے بارے میں کیا کہیں گے؟
جواب:۔
ایسی بہوؤں کو کم ظرف ہی کہا جاسکتا ہے! وہ جیسے اپنی چیزوں کی حفاظت کرتی ہیں، انہیں سسرال کی چیزوں کی بھی اسی طرح حفاظت کرنی چاہئے۔ اور اپنی چیز اگر اِستعمال سے خراب ہوجاتی ہے یا ٹوٹ جاتی ہے تو اس کی پروا نہیں کرنی چاہئے۔ لڑکی جس گھر میں (سسرال میں) آتی ہے، وہ اس کا اپنا گھر ہے، اور اِستعمال کی چیزیں مہیا کرنا سسرال والوں کے ذمے ہے، اس لئے وہ بلاتکلف اِستعمال کرنے میں حق بجانب ہے، اور اگر سسرال والوں کی طرف سے کسی چیز کے اِستعمال پر پابندی ہے تو لڑکی کو بغیر اِجازت کے اس کا اِستعمال کرنا صحیح نہیں ہوگا۔(۱) اسی طرح لڑکی کے جہیز کا سامان ہے، اگر لڑکی کی طرف سے اس کے اِستعمال پر پابندی نہ ہو تو سسرال والوں کے لئے اس کے اِستعمال میں کوئی مضائقہ نہیں، لیکن وہ زبردستی اپنی چیز سمجھ کر اِستعمال کرنے کے مجاز نہیں۔
- (۱) ألَا لَا یحل مال امریء مسلم إلّا بطیب نفس منہ۔ (مسند أحمد ج:۵ ص:۱۱۳)۔ أیضًا: لَا یجوز لأحد أن یتصرف فی ملک الغیر بغیر إذنہ۔ (قواعد الفقہ ص:۱۱۰)۔

