بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جہیز

اپنا‌سامان‌اِستعمال‌نہ‌کرنے‌دینے‌والی‌بہوؤں‌کا‌کیا‌کریں؟

سوال:۔

ایک سوال جس کا عنوان ’’جہیز لڑکی کا حق یا سسرال کا حق‘‘ ۸؍دسمبر ۱۹۸۹ء کی اشاعت میں آپ سے ’’زاہدہ رشیدہ‘‘ صاحبہ نے کیا تھا، اس بارے میں محترمہ نے آپ سے متعدّد سوالات کئے اور اس سے پہلے بھی جہیز کے بارے میں آپ سے کسی نے سوالات کئے تھے، جن کا ذِکر ’’زاہدہ رشیدہ‘‘ صاحبہ نے آپ سے اپنے سوالوں میں کیا ہے۔ جس کے ایک سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ جہیز لڑکی کی ملکیت ہوتا ہے، سسرال والوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔

میں بھی آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتی ہوں، لڑکی جب ماںباپ کے گھر سے سسرال جاتی ہے تو وہ اپنی ضرورت کی تمام چیزیں اپنے جہیز میں نہیں لاتی، بلکہ وہ اپنی ضرورت کی زیادہ تر چیزیں سسرال والوں کی ہی اِستعمال کرتی ہے، تو جب بہو اپنے سسرال والوں کی ہر چیز بلا جھجھک، بلاروک ٹوک اِستعمال کرتی ہے تو سسرال والوں کو کیوں حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنی بہو کی چیزیں یعنی جہیز کی چیزیں اِستعمال کرسکیں؟ بہو کا جہیز صرف سنبھال، سنبھال کے رکھنے کے لئے ہی ہوتا ہے؟

جواب:۔

نہیں، صرف سنبھال کر رکھنے کے لئے نہیں ہوتا، وہ بھی اِستعمال کے لئے ہوتا ہے، اور اس کا اِستعمال لڑکی کی اِجازت سے سسرال والوں کو بھی جائز ہے۔ گفتگو اس میں نہیں، بلکہ اس سوال میں ہے کہ وہ ملکیت کس کی ہے؟ لڑکی کی ملکیت ہے یا سسرال والوں کی؟ میں نے اس کے جواب میں لکھا تھا کہ وہ لڑکی کی ملکیت ہے، سسرال والوں کا اس ملکیت سے کوئی تعلق نہیں۔