بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جہیز

جہیز‌کا‌سامان‌ساس،‌سسر‌کو‌اِستعمال‌کرنا،‌مطالبے‌پر‌بہو‌کو‌نہ‌دینا

سوال:۔

جو سامان بیوی کو جہیز کی شکل میں ملا تھا، اس کا بہت سا حصہ شوہر کے والدین کے گھر رکھا ہوا ہے، کیونکہ شادی ہوکر لڑکی شوہر کے والدین کے گھر گئی، مگر بعد میں شوہر کاروبار کی وجہ سے اپنی بیوی بچوں کے ساتھ کراچی منتقل ہوگیا۔ بیوی کا اِصرار ہے کہ اس کے جہیز کا سامان جو کہ تمہارے والدین کے گھر پر ہے، وہ مجھے لاکر دو۔ شوہر کا کہنا ہے کہ میں اس لئے لاکر نہیں دیتا کیونکہ کہیں اس سے میرے والدین کی دِل آزاری نہ ہو، جبکہ اس کے متبادل میں تمہیں نئی چیزیں دِلوا دیتا ہوں۔ اس سے قطع نظر بیوی کا یہ کہنا ہے کہ شوہر کے گھر سے کوئی بھی ان کے یہاں نہ آئے، خاص طور پر شوہر کے والدین۔

۱:۔ جہیز کے سامان کے بارے میں شوہر کا عمل کیسا ہے؟

۲:۔ بیوی کا جہیز کے سامان کے بارے میں مطالبہ کیسا ہے؟

۳:۔ بیوی کا یہ مطالبہ کہ شوہر کے یہاں سے کوئی نہ آئے، کیسا ہے؟

۴:۔ شوہر کو ان حالات میں کیا کرنا چاہئے؟

۵:۔ ایسی بیوی کے بارے میں کیا حکم ہے؟

۶:۔ شوہر کی کمائی میں بیوی کے والدین، بہن بھائیوں اور دیگر رِشتہ داروں، اسی طرح شوہر کے والدین، شوہر کے بہن بھائیوں اور رِشتہ داروں کا کوئی حق ہے یا نہیں؟

۷:۔ کیا بیوی کا یہ طرزِ عمل اس کے ماں باپ کے علم میں لایا جائے؟

۸:۔ کیا شوہر یہ واضح طور پر بیوی کو بتادے کہ اسے بیوی کے تمام طرزِ عمل کا علم ہوچکا ہے؟

جواب:۔

جہیز کا سامان جو عورت کو اس کے میکے کی طرف سے ملتا ہے، وہ صرف بیوی کا حق ہے، وہ اگر اِجازت دے تو اس کا اِستعمال کرنا صحیح ہے، ورنہ ایک سوئی کا اِستعمال کرنا بھی جائز نہیں۔(۱)

بیوی کا مطالبہ جہیز کے سامان کے متعلق اُوپر لکھ دیا ہے۔

بیوی کا یہ مطالبہ کہ شوہر کے والدین میں سے کوئی بھی یہاں نہ آئے، صحیح نہیں۔ والدین کو اپنے بیٹے سے ملنا چاہئے، البتہ بیوی اگر نہ ملنا چاہے تو اس کی مرضی ہے، لیکن اس کا یہ عمل شریعت کے خلاف ہوگا۔

  1. (۱) ألَا لَا یحل مال امریء مسلم إلّا بطیب نفس منہ۔ (مسند أحمد ج:۵ ص:۱۱۳)۔ أیضًا: لَا یجوز لأحد أن یتصرف فی ملک الغیر بغیر إذنہ۔ (قواعد الفقہ ص:۱۱۰)۔