بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جہیز

لڑکی‌یا‌لڑکے‌کا‌جہیز‌سے‌اِنکار‌کرنا،‌نیز‌اپنے‌سرپرستوں‌کو‌خرافات‌سے‌منع‌کرنا

سوال:۔

کیا لڑکا یا لڑکی جہیز لینے سے اپنے والدین کو اِنکار کرسکتے ہیں؟ مثال قائم کرنے کو یا کسی بھی وجہ سے، یا جہیز کا معاملہ والدین پر چھوڑ دینا چاہئے؟

سوال:۔

لڑکی ان تمام رسموں کا خاتمہ کرنا چاہے اور یہ خواہش رکھے کہ اس کی شادی میں یہ خرافات نہ ہوں جس سے اللہ ناراض ہو، لیکن لڑکے والے نہ مانیں اور یہ رسمیں کریں، تو گناہگار کون ہوگا؟

سوال:۔

خرافات اور غلط رسمیں جو کہ اسلام کے منافی ہیں، جس کی شادی ہو رہی ہو، وہ اگر اپنی شادی میں یہ رسمیں نہ کرنا چاہے تو والدین یا سرپرست کو اس سے منع کرنے کا حق اِسلام کی رُو سے رکھتا ہے یا نہیں؟ یا یہ کہ کرنے والا نہ چاہتا ہو اور والدین کریں تو گناہگار کون ہوگا؟

جواب:۔

آج کل کے نام نہاد جہیز سے سختی کے ساتھ منع کرنا چاہئے۔

جواب:۔

بہتر تو یہ ہے کہ ایسی جگہ رشتہ کیا ہی نہ جائے جہاں خلافِ شرع رسمیں ہوتی ہوں۔ لیکن اگر مجبوری ہو تو لڑکی کو ان رسموں کے خلاف ناپسندیدگی کا اِظہار کردینا چاہئے، اگر اس کے باوجود کرتے ہیں تو وہ خود گناہگار ہوں گے۔

جواب:۔

غلط رسموں سے منع کرنے کا لڑکے اور لڑکی کو حق ہے، اگر اس کے باوجود والدین کرتے ہیں تو وہ گناہگار ہوں گے، لیکن جن غلط رسموں کا تعلق لڑکے یا لڑکی کی اپنی ذات سے ہو، ان کو ہرگز نہ کرنے دیں۔(۱)

  1. (۱) من رأی منکم منکرًا فلیغیّرہ بیدہ، فإن لم یستطع فبلسانہ، فإن لم یستطع فبقلبہ، وذٰلک أضعف الْإیمان۔ (الصحیح المسلم ج:۱ ص:۵۱، باب بیان کون النھی عن المنکر من الْإیمان ۔۔۔إلخ، طبع قدیمی)۔