جہیز
مطلقہکاسامانواپسنہکرناظلمہے
سوال:۔
یہ بات کسی مفروضے کی بنیاد پر نہیں کہتی ہوں، بلکہ یہ واقعہ میری ایک دوست کے ساتھ پیش آچکا ہے۔ ان لوگوں نے اس کو دھوکے سے گھر بھیج دیا اور اس کا تمام سامان ہتھیالیا، اس کو طلاق دئیے ہوئے بھی پانچ سال ہوچکے ہیں، لیکن کوئی چیز واپس نہیں کرتے، اس لڑکی کا کہنا ہے کہ یہ مال وسامان اس نے بڑی محنت مشقت سے جمع کیا تھا، اور اس کے والد نے اپنی جائز اور محنت کی آمدنی سے پیٹ کاٹ کر بنایا تھا، لہٰذا وہ اس فراڈ کو کبھی معاف نہیں کرے گی کہ اس کو دھوکا دے کر اس کا تمام سامان چھین لیا، اس کو طلاق کا داغ لگایا، اور اس کے سامان پر قابض ہوگئے۔ وہ کہتی ہے کہ اگر یہ لوگ میرا سامان اِستعمال کریں تو ان کے لئے حرام ہو، اگر ان کپڑوں میں نماز پڑھیں تو خدا ان کی نماز قبول نہ کرے، اگر ان برتنوں میں کھانا کھاکر روزہ رکھیں تو ان کا روزہ نہ ہو۔ میرے بستر پر سوئیں تو ان کی نیند حرام ہو۔ غرض اس کا دِل اس قدر دُکھی ہے کہ وہ ان کو بددُعا دیتی ہے اور کہتی ہے قیامت میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنی ایک ایک چیز کا ان سے حساب مانگے گی۔ اللہ کے ہاں تو مظلوم کو اس کا حق دِلوایا جائے گا، اور اگر وہ چیز نہ دے سکا، اس کے بدلے اس کی نیکیاں مظلوم کو دِلوادی جائیں گی، اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوں، تو مظلوم کے گناہ اس پر ڈال دئیے جائیں گے۔
سوال:۔
مزے کی بات یہ ہے کہ یہ حرکتیں ان لوگوں کی ہیں جو اپنے آپ کو شریف اور دِین دار کہتے ہیں، اور ان کی والدہ لوگوں کو اللہ کے اَحکام بتاکر خود کو بہت نیک اور دِین دار کہتی ہیں، جبکہ بہو کو طلاق دئیے پانچ سال ہوگئے، بیٹے کی دُوسری شادی کردی، مزید جہیز مل گیا، مگر اس مجبور اور غریب کے جہیز پر ابھی تک قابض ہیں، اور سب میں مشہور کر رکھا ہے کہ ہم نے پہلی بہو کا سب سامان واپس کردیا۔ لوگ ان کو نیک اور سچا سمجھتے ہیں اور اس ریاکاری سے ناواقف ہیں، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ایسے بے عمل واعظوں اور رِیاکار جھوٹے لوگوں کا اَنجام کیا ہوگا؟
جواب:۔
یہ تمام مضامین صحیح ہیں۔ حرام کا کپڑا پہن کر نماز پڑھی جائے تو وہ بھی قبول نہیں ہوتی۔(۱) آپ نے جس لڑکی کا قصہ لکھا ہے، ایسے بے شمار واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ جب آدمی میں اِیمان، شرافت اور حیا باقی نہ رہے تو وہ سب کچھ کرگزرتا ہے، لیکن مرنے کے بعد آنکھیں کھلیں گی، اور ایسے رَذیل لوگ دُنیا میں بھی راحت وسکون کا سانس نہیں لے سکتے۔
جواب:۔
ایسے رِیاکار جو لوگوں کے حقوق غصب کرکے بھی پارسائی کا دعویٰ رکھتے ہیں، جہنم میں دُوسرے گنہگاروں کے لئے بھی تماشائے عبرت ہوں گے، اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے۔۔۔!(۲)
- (۱) من رأی منکم منکرًا فلیغیّرہ بیدہ، فإن لم یستطع فبلسانہ، فإن لم یستطع فبقلبہ، وذٰلک أضعف الْإیمان۔ (الصحیح المسلم ج:۱ ص:۵۱، باب بیان کون النھی عن المنکر من الْإیمان ۔۔۔إلخ، طبع قدیمی)۔
- (۲) عن أبی حرۃ الرقاشی عن عمہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألَا لَا تظلموا! ألَا لَا یحل مال امریء إلّا بطیب نفس منہ۔ رواہ البیھقی فی شعب الْإیمان۔ (مشکوٰۃ ص:۲۵۵)۔

