جہیز
جہیزسےمتعلقسوالاتوجوابات
سوال:۔
آپ نے لکھا ہے کہ جہیز پر سسرال والوں کا کوئی حق نہیں اور یہ لڑکی کی ملکیت ہے۔ لیکن سسرال والے اس کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں، اور طعنے دے دے کر بہو کا دِل چھلنی کردیتے ہیں کہ یہ چیز سستی ہے، یہ معمولی ہے، یہ چیز ہے، وہ چیز نہیں ہے۔ اس رویے اور اس قسم کی باتوں کا سسرال والوں کو کتنا حق ہے؟
سوال:۔
پھر وہ تحائف جو دُلہن کو اس کے ماں باپ کے علاوہ اس کے دوست، رشتے دار، احباب یا جہاں وہ پڑھاتی ہے، وہاں کے ساتھی اور شاگرد وغیرہ جو کچھ دیتے ہیں، وہ سب کس کی ملکیت ہے؟ یقینا وہ بھی لڑکی کا ہے، لیکن ان لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ سب ہمارا ہے، کیونکہ شادی کے موقع پر دِیا گیا اور تحفے میں ملا ہے۔ جبکہ اس لڑکی کا موقف ہے کہ نہ صرف یہ، بلکہ وہ تمام اشیاء بھی جو لڑکی کو سسرال کے رشتے داروں، دوستوں، پڑوسیوں حتیٰ کہ خود سسرال والوں نے دی ہوں، وہ سب لڑکی کی ملکیت ہیں، وہ اس کو بھی چھیننے کے حق دار نہیں، کیونکہ جو کچھ لڑکی کو دے دیا گیا، وہ اس کا ہے، اور اس سے واپس لینے کی اِجازت نہیں۔
سوال:۔
آپ اس سلسلے میں کیا کہتے ہیں؟ کیونکہ یہ اکثر گھرانوں میں ہوتا ہے، طلاق یا ناچاقی کی صورت میں یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ لڑکی اپنی مہر سے دستبردار ہوجائے اور لڑکے والوں کی طرف سے دئیے گئے سامان (زیور اور کپڑے) وغیرہ تک واپس کردے، اور اس کے عوض اپنا جہیز لے لے، تو یہ کہاں تک دُرست ہے کہ وہ اپنا مال، اپنا جہیز لینے کے لئے اپنے دُوسرے حق یعنی مہر کو چھوڑ دے؟ اگر وہ مجبوراً مہر چھوڑ دے لیکن دِل سے معاف نہ کرے تو اس کا وَبال کس پر ہوگا؟ اور کیا یہ فیصلہ دُرست ہے کہ لڑکی کو دِیا ہوا سامان واپس لیں؟ جبکہ یہ فعل ایسا ہے جیسے کتا قے کرے اور اس کو پھر چاٹ لے۔
جواب:۔
جب جہیز پر سسرال والوں کا کوئی حق نہیں، تو ایسے طعنے جو آپ نے ذِکر کئے ہیں، یہ بھی کمینگی اور رَذالت ہے، اور قرآنِ کریم میں طعن وتشنیع کرنے والوں کے لئے ہلاکت کی وعید فرمائی گئی ہے۔(۱)
جواب:۔
لڑکی کا موقف صحیح ہے، شادی کے موقع پر لڑکی کو جو تحائف بھی دئیے، وہ سب لڑکی کی ملکیت ہے، سسرال والوں کا اس پر کوئی حق نہیں۔(۲)
جواب:۔
لڑکی اپنے گھر آباد ہوگئی اور میاں بیوی کے درمیان تنہائی ہوگئی تو اس کا پورا مہر شوہر کے ذمے لازم ہوگیا۔(۳) اس مہر کو زبردستی معاف کرانا بھی ظلم اور حرام ہے۔(۴) لڑکے والوں کی طرف سے لڑکی کو جو کچھ دِیا جاتا ہے، اگر وہ محض اِستعمال کے لئے ہے، اس کی ملکیت نہیں، تو اسے واپس لے سکتے ہیں۔(۵)
- (۱) عن ابن مسعود قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لیس المؤمن بالطعان ولَا باللعان ۔۔۔إلخ۔ (مشکوٰۃ، باب حفظ اللسان والغیبۃ والشتم ص:۴۱۳)۔
- (۲) کل أحد یعلم ان الجھاز للمرأۃ إذا طلّقھا تأخذ کلہ وإذا ماتت یورث عنھا۔ (شامی ج:۳ ص:۱۵۸)۔
- (۳) وتجب عند وطء أو خلوۃ صحت من الزوج۔ (شامی ج:۳ ص:۱۰۲)۔
- (۴) ألَا لَا یحل مال امریء مسلم إلّا بطیب نفس منہ۔ (مسند أحمد ج:۵ ص:۱۱۳)۔
- (۵) وإذا بعث الزوج إلٰی أھل زوجتہ شیئًا عند زفافھما منھا دیباج فلما زفت إلیہ أراد أن یسترد من امرأۃ الدیباج لیس لہ ذٰلک إذا بعث إلیھا علٰی جھۃ التملیک۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۳۲۷، کتاب النکاح، الباب السابع)۔

