جہیز
کیاجہیزدیناجائزنہیں؟
سوال:۔
شادی بیاہ کے سلسلے میں بعض لوگ جہیز کو ہی ناجائز قرار دیتے ہیں، حالانکہ میرا خیال یہ ہے کہ جہیز بجائے خود غلط نہیں ہے، کیونکہ لڑکی کا گھر پر حق ہے کہ جب وہ گھر سے رُخصت ہو تو اس کے عزیز واقارب، والدین ورِشتہ دار اُسے تحائف وغیرہ دیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی صاحبزادیوں کی شادی کے وقت ضروریات کی چیزیں اس وقت کے لحاظ سے ان کو دِی تھیں، پس اپنی اِستطاعت سے زیادہ قرض اُدھار لے کر لوگوں کو دِکھاوے کے لئے زیادہ سے زیادہ دینا، یہ غلط ہے، لیکن لڑکی کو شادی کے وقت گھر سے ضروریات کی اشیاء مہیا کرنا، تحائف وغیرہ دینا غلط نہیں۔ اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟
جواب:۔
لڑکی کو رُخصت کرتے وقت اپنی ہمت ووسعت کے مطابق تحفے تحائف اور جہیز دینا شرعاً صحیح ہے، مگر لڑکے والوں کی طرف سے جہیز کا مطالبہ کیا جانا اور لڑکی والوں کا نمود ونمائش کے لئے اپنی ہمت واِستطاعت سے بڑھ کر دینا، جائز نہیں۔(۱)
- (۱) ألَا لَا یحل مال امریء مسلم إلّا بطیب نفس منہ۔ (مسند أحمد ج:۵ ص:۱۱۳ طبع بیروت)۔

