جہیز
جہیزلڑکیکاحق،یاسسرالکاحق؟
سوال:۔
جہیز کی اسلام میں کیا حیثیت ہے؟ یہ سوال ۱۱؍اگست ۱۹۸۹ء کی اِشاعت میں آپ سے کسی نے کیا تھا، جس کا جواب آپ نے یہ دیا تھا کہ: ’’جہیز اس تحفے کا نام ہے جو والدین کی طرف سے لڑکی کو دِیا جاتا ہے، اگر والدین اپنی خوشی سے اس لڑکی کو کچھ دینا چاہیں، تو کوئی حرج نہیں۔ جہیز لڑکی کی ملکیت ہوتا ہے، لڑکی کے سسرال والوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘
آپ کے درج بالا جواب سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ والدین اپنی خوشی، رضا اور مرضی سے اپنی بیٹی کو کچھ دینا چاہیں، تو دے سکتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ لڑکے یعنی سسرال والوں کی طرف سے والدین کو اس بات پر مجبور کرنا اور مطالبہ کرنا کہ جہیز میں فلاں فلاں چیز ہونا چاہئے، کہاں تک دُرست ہے؟ اور جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ اکثر لوگ لڑکی والوں کو جہیز کی فہرست دے دیتے ہیں کہ یہ چیز ہونی چاہئے، یا دُولہا کی طرف سے مطالبات پیش کردئیے جاتے ہیں کہ اس کے لئے موٹرسائیکل، گھڑی یا دُوسری چیزیں ہونا چاہئیں۔ اس کے لئے کیا حکم ہے؟ کیا لڑکے (دُولہا) کو ان مطالبات کا حق ہے؟
سوال:۔
دُوسرے آپ نے مذکورہ سوال کے جواب میں اِرشاد فرمایا ہے کہ ’’جہیز لڑکی کی ملکیت ہوتا ہے، لڑکی کے سسرال والوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘ اس سلسلے میں آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ جو سسرال والے لڑکی کی ملکیت (جہیز) کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں، اس کو بلااِجازت اِستعمال کرتے ہیں، یا اس کی مرضی کے خلاف اور اس سے پوچھے بغیر اکثر بالجبر اس جہیز کے سامان کو جو بہو لاتی ہے، اپنی بیٹی کے جہیز میں دے دیتے ہیں، اور وہ لڑکی جو اس کی مالک تھی، کچھ کہہ نہیں سکتی، کیونکہ اگر اِنکار کرے گی یا مزاحمت کرے گی تو اس کو بہت بُرے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، ہوسکتا ہے طلاق تک نوبت آجائے، اس لئے وہ اپنا گھر قائم رکھنے کی خاطر خاموش ہوجاتی ہے، لیکن وہ دِل سے اس بات پر راضی نہیں ہوتی کہ اس کے جہیز کا سامان جو اس کے باپ نے خون پسینے کی کمائی سے اپنی بیٹی کے لئے بنایا تھا، وہ اس کی نند کو دے دیا جائے۔ اور اگر ایسا اس کے ساتھ بالجبر کیا جاتا ہے، تو وہ کہتی ہے کہ ’’میں ایک بھی چیز دینے کی اِجازت نہیں دُوں گی اور خود اس کے گھر جاکر اس کا حساب لوں گی، اور زِندگی بھر معاف نہیں کروں گی۔‘‘ تو کیا وہ سامان جو زبردستی اس سے چھین کر دُوسروں کو دِیا گیا ہے اس کا اِستعمال جائز ہے؟ جبکہ حدیث شریف میں ہے کہ مسلمان کا مال دُوسرے مسلمان پر اس وقت تک حرام ہے جب تک وہ خود اس کی اِجازت نہ دے۔ یعنی بلااِجازت ایک بھائی کا مال دُوسرے بھائی پر حرام ہے، تو کیا یہ حرام کے مرتکب نہ ہوئے؟
سوال:۔
اسی قسم کی ایک اور صورت یہ ہے کہ اگر کسی وجہ سے کچھ ناچاقی ہوگئی یا سسرال والے لڑکی کو اس کے میکے چھوڑ آئے، اور اَب وہ اگر اپنی کوئی چیز مانگتی ہے تو یہ لوگ اس کے اِستعمال کی چیزیں بھی نہیں دیتے، بلکہ اس کا تمام سامان حتیٰ کہ زیور اور کپڑا بھی خود اِستعمال کرتے ہیں، مگر اس کو اس کی اپنی کوئی چیز لے جانے کی اِجازت نہیں دیتے، حتیٰ کہ طلاق کے بعد بھی اس کے تمام سامان پر قابض رہتے ہیں، اور باوجود اس کے مطالبے کے اس کے حوالے نہیں کرتے، مجبور ہوکر وہ لڑکی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے، تو وہ عدالت میں صاف مکر جاتے ہیں کہ یہ تمام سامان اس کا نہیں، ہمارا ہے۔ ایسے ظالم اور جھوٹے لوگوں کے لئے کیا حکم ہے؟ اور ان کا حشر کیا ہوگا؟
جواب:۔
جب معلوم ہوچکا کہ جہیز اس تحفے کا نام ہے جو والدین کی طرف سے لڑکی کو دِیا جاتا ہے، تو اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ لڑکے والوں کی طرف سے اس کا مطالبہ جائز نہیں۔ پھر یہ جہیز تحفہ نہیں رہے گا، بلکہ غصب اور ڈاکا بن جائے گا۔ اور اگر والدین چاروناچار اس طرح کے جہیز کا اِنتظام کربھی دیں، تب بھی لڑکے والوں کے لئے وہ شرعاً حلال نہیں۔(۱)
جواب:۔
کسی کی ملکیت پر بغیر اس کی اِجازت کے قبضہ جمالینا شرعاً حرام ہے۔(۲) اس لئے سسرال والوں کو نہ تو اپنی بہو کی رضامندی کے بغیر اس کا اِستعمال جائز ہے، نہ اس کے سامان کو اپنی لڑکی کے جہیز میں دے ڈالنا ہی جائز ہے، بلکہ یہ شرعاً ظلم وجور ہے، اور عرفاً کمینگی اور رَذالت ہے، مرنے کے بعد اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔
جواب:۔
قرآنِ کریم میں ظالموں اور جھوٹوں پر لعنت آئی ہے، اس لئے ایسے لوگ دُنیا وآخرت میں ملعون ہیں۔(۳)
- (۱) ألَا لَا یحل مال امریء مسلم إلّا بطیب نفس منہ۔ (مسند أحمد ج:۵ ص:۱۱۳)۔
- (۲) ﵟ وَلَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ ﵞ البقرة ١٨٨۔ لَا یجوز لأحد أن یأخذ مال أحد بلا سبب شرعی۔ (قواعد الفقہ ص:۱۱۰)۔
- (۳) ﵟ أَلَا لَعۡنَةُ ٱللَّهِ عَلَى ٱلظَّٰلِمِينَ ﵞ هود ١٨۔ﵟ لَّعۡنَتَ ٱللَّهِ عَلَى ٱلۡكَٰذِبِينَ ﵞ آل عمران ٦١۔

