بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جہیز

جہیز‌کی‌قباحتیں

سوال:۔

لڑکی کو والدین کی طرف سے جہیز دینا سنت ہے یا نہیں؟ خواہ جہیز تھوڑا ہو یا موجودہ زمانے کے اِعتبار سے؟ کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو بیٹیوں کو جہیز نہیں دیا۔

جواب:۔

والدین کی طرف سے لڑکی کو جو تحفہ دیا جاتا ہے اسے ’’جہیز‘‘ کہتے ہیں، اور اپنی حیثیت کے مطابق والدین بیٹی کو کچھ نہ کچھ دیتے ہیں۔ پس اگر نمود ونمائش کے بغیر والدین بیٹی کو اپنی حیثیت کے مطابق کچھ دیں تو یہ بلاشبہ سنت ہے۔ لیکن ہمارے دور میں جس جہیز کا رِواج ہے، وہ سنت نہیں، بلکہ بدعتِ سیئہ ہے، جو بہت سی قباحتوں کا مجموعہ ہے۔

اوّل:۔ لڑکے والوں کی طرف سے جہیز کا مطالبہ ہوتا ہے، اور ان کا یہ مطالبہ شرعاً جبر وظلم ہے۔(۱)

دوم:۔ چونکہ لڑکی کے والدین کو معلوم ہے کہ اگر بھاری مقدار میں جہیز نہ دیا گیا تو بیٹی کو سسرال میں نظرِ حقارت سے دیکھا جائے گا اور اسے ساس نندوں کے سو سو طعنے سننے ہوں گے، اس لئے خواہ ان میں جہیز دینے کی سکت ہو، یا نہ ہو، وہ اس کا اِنتظام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جہیز کے بارے میں یہ ذہنیت سراسر جاہلیت ہے۔

سوم:۔ لڑکی والے جہیز کی وجہ سے لڑکی کو بٹھائے رکھتے ہیں، یہ بھی سراسر ظلم ہے۔

چہارم:۔ جہیز کے لئے بسااوقات سودی قرضے لئے جاتے ہیں، یہ بھی حرام ہے۔(۲)

پنجم:۔ اس جہیز کی باقاعدہ نمائش ہوتی ہے، یہ رِیاکاری ہے۔

ششم:۔ اس جہیز کے رِواج کی وجہ سے بہت سے والدین اپنی بچیوں کا عقد نہیں کرسکتے، اور نہ ان کا رِشتہ آتا ہے۔

ان وجوہ سے معلوم ہوا کہ موجودہ دور میں جہیز کے نام سے جو لعنت ہم پر مسلط ہے، یہ سنت نہیں۔

  1. (۱) ألَا لَا یحل مال امریء مسلم إلّا بطیب نفس منہ۔ (مسند أحمد ج:۵ ص:۱۱۳)۔
  2. (۲)ﵟ وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ ﵞ البقرة ٢٧٥۔