رضاعتیعنیبچوںکودُودھپلانا
بہنکےشوہرکیاولادجودُوسریبیویسےہو،اُسسےشادیکرنا
سوال:۔
زید کی بہن کی شادی بکر سے ہوئی، بکر کے ہاں ایک عدد صاحبزادے کی ولادت ہوئی، لیکن کچھ عرصے بعد زید کی بہن اپنے خالقِ حقیقی سے جاملی۔ بکر نے دُوسری شادی کرلی، بکر کی دُوسری بیوی سے مزید بچے ہوئے، جن میں لڑکے بھی ہیں اور لڑکیاں بھی۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا زید بکر کی دُوسری بیوی سے ہونے والی لڑکی سے شادی کرسکتا ہے یا نہیں؟ نیز زید کے سگے بھانجے نے بکر کی دُوسری بیوی کا دُودھ چمچے میں لے کر تقریباً سات آٹھ سال کی عمر میں پیا تھا، یعنی رضاعت کا مسئلہ بھی ہے۔ محترم! جواب سے مطلع فرماکر ہماری اُلجھن دُور فرمادیجئے۔
جواب:۔
زید کا نکاح بہنوئی کی دُوسری بیوی سے ہونے والی اولاد سے ہوسکتا ہے۔ زید کے بھانجے نے دُوسری بیوی کا جو دُودھ پیا ہے، اس سے زید کے حق میں رضاعت کا مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ زید اپنے بھانجے کی رضاعی بہن سے نکاح کرسکتا ہے۔

