رضاعتیعنیبچوںکودُودھپلانا
مردوعورتکیبدکاریسےانکیاولادبھائیبہننہیںبنجاتی
سوال:۔
میرے بچپن کے دوست ’’خ‘‘ کی کچھ عرصہ پہلے اپنے مرحوم والد کے دوست کی بیٹی کے ساتھ شادی ہوئی تھی، چند روز پہلے مجھ پر ایک سنگین انکشاف ہوا ہے، ایک شخص نے جو ’’خ‘‘ کے والد کے ساتھ لوہے کا کاروبار کرتا تھا، مجھے بتایا ہے کہ ’’خ‘‘ کے والد نے اپنی جوانی میں اپنے اسی دوست کی بیوی سے بدکاری کی تھی، جس کی بیٹی سے اب ’’خ‘‘ نے شادی کی ہے۔ اس بدکاری کا علم صرف ان دونوں کو تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ ’’خ‘‘ کے باپ نے اسے بتایا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ اس کے دوست کی بیٹی دراصل اس کی ہو، اور پھر اسے منع بھی کردیا تھا کہ اس بات کا علم کسی کو نہ ہونے دے، ورنہ وہ اسے نہیں چھوڑے گا۔ اس عورت کا کچھ عرصہ کے بعد انتقال ہوگیا، ’’خ‘‘ کے والد کے انتقال کے بعد اس بیوپاری کا ان کے خاندان سے کوئی تعلق نہ رہا اور ’’خ‘‘ کی شادی کا بھی اسے کوئی علم نہ تھا۔ وہ آدمی ’’خ‘‘ کو یہ بات بتادینا چاہتا تھا لیکن میں نے اسے فی الحال ایسا کرنے سے منع کردیا ہے۔ اب آپ براہ کرم مذہبی نقطۂ نظر سے بتائیے کہ کیا کیا جائے؟
جواب:۔
ان دونوں کا نکاح شرعاً صحیح ہے۔ اوّل تو اس بیوپاری کے بیان سے اس کہانی پر اعتماد کرنا ہی گناہ ہے۔(۱) دوم مرد وعورت کی بدکاری سے ان کی اولاد بھائی بہن نہیں بن جاتی، اولاد کا نکاح آپس میں جائز رہتا ہے۔(۲)
- (۱) قال تعالٰی: ﵟ إِذۡ تَلَقَّوۡنَهُۥ بِأَلۡسِنَتِكُمۡ وَتَقُولُونَ بِأَفۡوَاهِكُم مَّا لَيۡسَ لَكُم بِهِۦ عِلۡمٞ وَتَحۡسَبُونَهُۥ هَيِّنٗا وَهُوَ عِندَ ٱللَّهِ عَظِيمٞ ١٥ ﵞ النور ١٥۔
- (۲) ویحل لاُصول الزانی وفروعہ اُصول المزنی بھا وفروعھا۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۱۰۱، فصل فی المحرمات)۔

