بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رضاعت‌یعنی‌بچوں‌کو‌دُودھ‌پلانا

ایک‌دفعہ‌خالہ‌کا‌دُودھ‌پینے‌والے‌کا‌خالہ‌زاد‌سے‌نکاح‌جائز‌نہیں

سوال:۔

زید نے چھ ماہ کی عمر میں ایک بار تقریباً تین منٹ اپنی خالہ کا دُودھ پیا تھا۔ اب زید نے اپنی اسی خالہ کی لڑکی سے جس کا اُس نے دُودھ پیا تھا، بزرگوں کے منع کرنے کے باوجود کچھ لوگوں کے تعاون سے نکاح کرلیا ہے۔ زید اور لڑکی کے خاندان کے تمام لوگ سنی حنفی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ زید کا کہنا یہ ہے کہ میں نے اور لڑکی نے دُوسرے مسلک کے مسئلے پر عمل کرکے یہ نکاح کیا ہے، اور بقول زید کے اہلِ حدیث یا شافعی مسلک میں پانچ بار دُودھ پینے سے رضاعت ثابت ہوتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ نکاح جائز ہے؟ جبکہ ہم لوگ سنی، حنفی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس نکاح کے بعد زید اور لڑکی اور وہ لوگ جنہوں نے نکاح میں تعاون کیا ہے، کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟ نوٹ: لڑکی کی عمر اس وقت ۲۲ سال اور زید کی عمر ۲۵ سال ہے۔

جواب:۔

یہ نکاح باطل ہے، جیسے کوئی شخص اپنی سگی بہن سے عقد کرلے ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ اس شخص پر لازم ہے کہ فوراً توبہ کرے اور اپنی بہن کو الگ کردے، ورنہ ساری عمر بہن سے بدکاری کا وَبال اس کی گردن پر رہے گا، اور اندیشہ ہے کہ اِیمان پر خاتمہ نہ ہو۔(۱)

جو لوگ اس باطل نکاح میں شریک ہوئے، وہ بھی شدید گناہ میں مبتلا ہوئے، اس سے توبہ کریں اور اس شخص کو علیحدگی پر مجبور کریں۔

  1. (۱) واتفقوا علٰی أن التوبۃ من جمیع المعاصی واجبۃ، وانھا واجبۃ علی الفور۔ (روح المعانی ج:۲۸ ص:۱۵۹ طبع بیروت)۔