رضاعتیعنیبچوںکودُودھپلانا
نانیکادُودھپینےوالےکانکاحاپنیخالہیاماموںزادبہنسےجائزنہیں
سوال:۔
میرے بڑے بیٹے نے اپنی نانی یعنی میری امی کا میری چھوٹی بہن کے ساتھ دُودھ پیا ہے، اس کی شادی میں اپنی منجھلی بہن کی بیٹی سے کرنا چاہتی ہوں، کوئی کہتا ہے کہ ایسا کرنا جائز ہے، کوئی کہتا ہے کہ ناجائز ہے۔ آپ قرآن وسنت کی روشنی میں اس کا تفصیلی جواب دے دیں۔
جواب:۔
آپ کے جس لڑکے نے اپنی نانی کا دُودھ پیا ہے، وہ اپنی نانی کا رضاعی بیٹا بن گیا، اس لئے اس کا نکاح اپنے کسی ماموں یا خالہ کی لڑکی سے نہیں ہوسکتا۔(۱)
- (۱) یحرم علی الرضیع أبواہ من الرضاع واُصولھما وفروعھما من النسب والرضاع (إلٰی قولہ) فالکل إخوۃ الرضیع وأخواتہ۔ (عالمگیری، کتاب الرضاع ج:۱ ص:۳۴۳)۔ عن علی أنہ قال: یا رسول اللہ! ھل لک فی بنت عمک حمزۃ فإنھا أجمل فتاۃ فی قریش؟ فقال لہ: أما علمت أن حمزۃ أخی من الرضاعۃ، وان اللہ حرم من الرضاعۃ ما حرم من النسب۔ (مشکٰوۃ، باب المحرمات ص:۲۷۳، طبع قدیمی، أیضًا: ترمذی ج:۱ ص:۲۱۷، طبع قدیمی)

