بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رضاعت‌یعنی‌بچوں‌کو‌دُودھ‌پلانا

چھوٹی‌بہن‌کو‌دُودھ‌پلادیا‌تو‌ان‌کی‌اولاد‌کا‌نکاح‌آپس‌میں‌جائز‌نہیں

سوال:۔

دو سگی بہنیں ہیں، ایک شادی شدہ ہے اور ایک چھ ماہ کی، کسی مجبوری کے تحت بڑی بہن چھوٹی بہن کو اپنا دُودھ پلادیتی ہے، چھوٹی بہن بھی اب بال بچے دار ہے، اب وہ اپنی بڑی بہن کے لڑکے سے اپنی لڑکی کی شادی کرنا چاہتی ہے، کیا وہ شریعت کی رُو سے ایسا کرسکتی ہے؟ جبکہ دونوں خاندان راضی ہیں۔

جواب:۔

جب بڑی بہن نے چھوٹی بہن کو دُودھ پلایا تو چھوٹی بہن رضاعی بیٹی بن گئی، اور بڑی بہن کی اولاد اس کے رضاعی بہن بھائی بن گئے۔ جس طرح سگے بہن بھائیوں سے اس کی اولاد کا رشتہ نہیں ہوسکتا، اسی طرح رضاعی بہن بھائیوں سے بھی نہیں ہوسکتا۔(۱)

  1. (۱) یحرم علی الرضیع أبواہ من الرضاع واُصولھما وفروعھما من النسب والرضاع (إلٰی قولہ) فالکل إخوۃ الرضیع وأخواتہ۔ (عالمگیری، کتاب الرضاع ج:۱ ص:۳۴۳)۔ عن علی أنہ قال: یا رسول اللہ! ھل لک فی بنت عمک حمزۃ فإنھا أجمل فتاۃ فی قریش؟ فقال لہ: أما علمت أن حمزۃ أخی من الرضاعۃ، وان اللہ حرم من الرضاعۃ ما حرم من النسب۔ (مشکٰوۃ، باب المحرمات ص:۲۷۳، طبع قدیمی، أیضًا: ترمذی ج:۱ ص:۲۱۷، طبع قدیمی)