رضاعتیعنیبچوںکودُودھپلانا
جسعورتکادُودھپیاہواُسکیپوتیسےنکاحجائزنہیں
سوال:۔
میری شادی کو عرصہ دس سال ہوگئے ہیں، میرے خاوند میرے پھوپھی زاد ہیں، جب وہ ایک سال کے تھے تو ان کی والدہ فوت ہوگئی، اور میری دادی ان کو اپنے ساتھ گھر لے آئیں۔ اور تقریباً دو سال تک اپنا دُودھ پلایا۔ یا یوں کہئے کہ جب روتے تھے تو دادی اپنا دُودھ منہ میں ڈالتی، کیونکہ ہمارے بزرگ کہتے ہیں کہ اس وقت دُودھ نہیں آتا تھا۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ جب دُودھ نہیں آتا تھا تو دو سال تک کیا پیتے رہے؟ اور دُودھ منہ میں ڈالنے کے بعد چپ بھی کرجاتے تھے۔ فرض کریں اگر دُودھ نہیں آتا تھا، صرف چوستے ہی تھے تو بھی کیا نکاح جائز ہے؟ کیونکہ ہمارا رِشتہ چچا اور بھتیجی کا بنتا ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ اگر دُودھ پیتے تھے تو کیا ہمارا نکاح جائز ہے؟ کیا بچے جائز ہیں؟ مجھے اس بات کا علم ابھی دس سال کے بعد ہوا ہے، کیونکہ جب میری شادی ہوئی تو میری عمر دس سال تھی، میں بہت پریشان ہوں، اگر نکاح جائز نہیں تو اَب اس کا کیا حل ہے؟
جواب:۔
اگر دادی کا دُودھ تھا تب تو آپ دونوں کا رِشتہ جائز نہیں، اور اگر دُودھ نہیں تھا، یونہی بچے کو بہلانے کے لئے اس کے منہ میں دُودھ دے دیا کرتی تھیں تو رِشتہ جائز ہے۔(۱) بہرحال اس کی تحقیق یا تو دادی سے ہوسکتی ہے یا اس زمانے کے لوگوں سے، اگر آپ کے شوہر نے واقعی آپ کی دادی کا دُودھ پیا ہو اور اس کا صحیح ثبوت مہیا ہوجائے تو علیحدگی اِختیار کرلیں، اگر صحیح ثبوت نہ ہو تو خواہ مخواہ وہم میں نہ پڑیں۔
- (۱) إمرأۃ کانت تعطی ثدیھا صبیۃ واشتھر ذٰلک بینھم ثم تقول لم یکن فی ثدیی لبن حین القمتھا ثدیی ولم یعلم ذٰلک إلّا من جھتھا جاز لِابنھا أن یتزوّج بھٰذہ الصبیۃ۔ (شامی ج:۳ ص:۲۱۲، باب الرضاع)۔

