بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رضاعت‌یعنی‌بچوں‌کو‌دُودھ‌پلانا

اگر‌دادی‌کے‌پستان‌میں‌دُودھ‌نہ‌ہو،‌بلکہ‌صرف‌بہلانے‌کے‌لئے‌بچے‌کے‌منہ‌میں‌پستان‌دے‌دیا‌تو‌حرمت‌ثابت‌نہ‌ہوگی

سوال:۔

پچھلے دِنوں آپ کے کالم میں پڑھا کہ ایک بچہ اگر اپنی دادی کا دُودھ پیئے تو اس کا نکاح چچازاد اور پھوپھی زاد بہنوں سے نہیں ہوسکتا۔ اس ضمن میں یہ وضاحت بھی مطلوب ہے کہ اکثر دادی عمر کے اس دور میں ہوتی ہے کہ اس کے پستانوں میں دُودھ نہیں ہوتا، (میرے خیال میں) اس صورت میں کہ دادی کے آخری بچے کی عمر بھی بیس سال سے زیادہ ہوچکی ہے، لیکن بچے کے رونے کی وجہ سے یا کسی بھی وجہ سے دادی پوتے کو خاموش کرنے کے لئے اس کے منہ میں تو پستان دے دے جبکہ دُودھ نہ آرہا ہو، اس صورت میں بھی کیا مندرجہ بالا مسئلہ ہوگا یا اس کا اِطلاق نہ ہوگا؟

جواب:۔

اگر دادی کی چھاتیوں میں دُودھ نہ ہو، یوں ہی بچے کو بہلانے کے لئے ایسا کیا گیا تو اس سے حرمت ثابت نہیں ہوتی، اور مندرجہ بالا مسئلے کا اس پر اِطلاق نہیں ہوگا۔(۱)

  1. (۱) إمرأۃ کانت تعطی ثدیھا صبیۃ واشتھر ذٰلک بینھم ثم تقول لم یکن فی ثدیی لبن حین القمتھا ثدیی ولم یعلم ذٰلک إلّا من جھتھا جاز لِابنھا أن یتزوّج بھٰذہ الصبیۃ۔ (شامی ج:۳ ص:۲۱۲، باب الرضاع)۔