رضاعتیعنیبچوںکودُودھپلانا
دادیکادُودھپینےوالےکانکاحاپنےچچاکیلڑکیسےجائزنہیں
سوال:۔
ہم سات بہن بھائی ہیں، جن میں سب سے بڑا میں ہوں، اور سب سے چھوٹی میری بہن ہے۔ بچپن میں میری ماں نے میرے لڑکے کو (یعنی اپنے پوتے کو) دُودھ پلایا۔ میری بیوی نے بھی میری سب سے چھوٹی بہن کو دُودھ پلایا۔بعد میں، میں نے اپنے اسی لڑکے کا نکاح اپنے تیسرے بھائی کی لڑکی سے کردیا، جو کہ مجھ سے چھوٹا ہے، اور میری چھوٹی بہن سے بڑا ہے۔ آیا یہ نکاح صحیح ہے؟ جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔
یہ نکاح جائز نہیں، کیونکہ آپ کا یہ لڑکا جس نے آپ کی ماں کا دُودھ پیا ہے، وہ اپنی دادی کا رضاعی بیٹا ہے، اور آپ کی ماں کی اولاد کا رضاعی بھائی ہے۔ اس کا عقد آپ نے جس لڑکی سے کیا ہے، وہ اس کی رضاعی بھتیجی ہے۔ جس طرح نسبی بھتیجی کا نکاح نہیں ہوسکتا، اسی طرح رضاعی چچا بھتیجی کا بھی نہیں ہوسکتا۔(۱) آپ نے جو نکاح کیا ہے، وہ نکاح نہیں ہوا، اگر رُخصتی نہ ہوئی ہو تو دونوں کا عقد دُوسری جگہ کردیں، طلاق کی ضرورت نہیں۔ اور اگر خدانخواستہ رُخصتی بھی کردی ہے تب بھی دونوں علیحدگی اِختیار کرلیں۔
- (۱) یحرم علی الرضیع أبواہ من الرضاع واُصولھما وفروعھما من النسب والرضاع۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۳۴۳)۔

