رضاعتیعنیبچوںکودُودھپلانا
کیادادیکادُودھپینےوالیلڑکیکانکاحچچاؤںاورپھوپھیوںکیاولادسےجائزہے؟
سوال:۔
میں نے بچپن میں ایک دفعہ اپنی دادی کا دُودھ پیا تھا، میری دادی کی سب سے چھوٹی اولاد یعنی میرے سب سے چھوٹے چچا بھی مجھ سے تقریباً چار پانچ سال بڑے ہیں، ان کے بعد میری دادی کے کوئی اور لڑکا یا لڑکی نہیں ہوئی۔ میں نے بہت سے علماء سے سنا ہے کہ کسی عورت کی اولاد ہونے کے بعد اگر دو سال کے اندر اس عورت کا دُودھ پیا جائے تو اس کے بچوں سے رضاعی بھائی بہن کا رشتہ ہوتا ہے، دو سال کے بعد پینے سے رضاعی بھائی بہن کا رشتہ نہیں ہوتا، اس لئے میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیونکہ میری دادی کی سب سے چھوٹی اولاد بھی مجھ سے تقریباً چار پانچ سال بڑی ہے تو آپ یہ بتائیں کہ میں اپنے چچاؤں اور پھوپھیوں کی رضاعی بہن ہوں یا نہیں؟ اور میرا ان کے لڑکوں سے رشتہ ہوسکتا ہے یا نہیں؟
جواب:۔
اگر اس وقت آپ کی دادی کی چھاتیوں میں دُودھ تھا تو آپ اپنی دادی کی رضاعی بیٹی اور چچاؤں اور پھوپھیوں کی رضاعی بہن بن گئیں،(۱) اور اگر چھاتیوں میں دُودھ نہیں تھا یونہی بچی کو بہلانے کے لئے دادی نے ایسا کیا تھا تو حرمت ثابت نہیں ہوئی۔(۲)
- (۱) یحرم علی الرضیع أبواہ من الرضاع واُصولھما وفروعھما من النسب والرضاع (إلٰی قولہ) فالکل إخوۃ الرضیع وأخواتہ۔ (عالمگیری، کتاب الرضاع ج:۱ ص:۳۴۳)۔
- (۲) المراد بالمصّ الوصول إلی الجوف۔ (رد المحتار، باب الرضاع ج:۳ ص:۲۰۹)۔

