رضاعتیعنیبچوںکودُودھپلانا
دادیکادُودھپینےسےچچااورپھوپھیکیاولادسےنکاحنہیںہوسکتا
سوال:۔
میرا بچہ جس کی عمر تقریبا ۳ سال ہے، اپنی دادی یعنی میری والدہ کا دُودھ پیتا ہے، کیونکہ اس کی امی نے دُوسرا بچہ ہونے پر دُودھ چھڑادیا تھا، اس لئے اس کی دادی نے صرف بہلاوے کے لئے اس کو اپنے سینے سے چمٹالیا اور اَب جبکہ وہ ماشاء اللہ تین سال کا ہے اس کی یہ عادت پختہ ہوچکی ہے اور وہ ہمیشہ دادی سے چمٹ کر ہی سوتا ہے۔ اس لئے آپ برائے مہربانی مجھے یہ بتادیجئے کہ اس کا ایسا کرنا کس حد تک جائز ہے؟ اور کیا اس بچے کا یہ فعل میرے اور اس کے رشتوں کے درمیان حائل تو نہ ہوگا؟ اُمید ہے جلد از جلد میری پریشانی دُور فرمائیں گے۔
جواب:۔
جس بچے نے دو سال (اور ایک قول کے مطابق ڈھائی سال) کے اندر اندر کسی عورت کا دُودھ پیا ہو وہ اس عورت کا رضاعی بیٹا بن جاتا ہے،(۱) اور اس کا نکاح دُودھ پلانے والی کی اولاد، یا اولاد کی اولاد سے نہیں ہوسکتا۔(۲) پس اگر آپ کے بچے نے اپنی دادی کا دُودھ ڈھائی سال کے اندر پیا ہے تو اس کا نکاح اس کے چچاؤں اور پھوپھیوں کی اولاد سے جائز نہیں، اور اگر چھاتیوں میں دُودھ نہیں تھا محض بہلانے کے لئے ایسا کیا گیا تو اس سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔(۳)
- (۱) ویثبت التحریم فی المدۃ فقط۔ (رد المحتار مع الدر الدر المختار، کتاب الرضاع ج:۳ ص:۲۱۱)۔ وفیہ: ھو حولَان ونصف عندہ وحولَان فقط عندھما وھو الأصح۔ (أیضًا ج:۳ ص:۲۰۹)۔
- (۲) عن عائشۃ زوج النبی صلی اللہ علیہ وسلم أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: یحرم من الرضاعۃ ما یحرم من الولَادۃ۔ (سنن أبی داوٗد ج:۱ ص:۲۸۰، کتاب النکاح، باب ما یحرم من الرضاعۃ)۔
- (۳) إمرأۃ تعطی ثدیھا صبیۃ واشتھر ذٰلک بینھم ثم تقول لم یکن فی ثدیی لبن حین ألقمتھا ثدیی ولم یعلم ذٰلک إلّا من جھتھا جاز لِابنھا أن یتزوّج بھٰذہ الصبیۃ۔ (رد المحتار، باب الرضاع ج:۳ ص:۲۱۲)۔

