بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رضاعت‌یعنی‌بچوں‌کو‌دُودھ‌پلانا

رضاعی‌ماں‌بیٹی‌کی‌اولاد‌کا‌آپس‌میں‌نکاح

سوال:۔

مولانا صاحب! سب سے پہلے میں آپ کا تہہ دِل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے میرے سوال کو روزنامہ ’’جنگ‘‘ کے جمعہ ۲۸؍جون کے شمارے میں بعنوان ’’سوال پوچھنے کی ضرورت کیوں؟‘‘ شائع فرمایا، اور وہ سوال وجواب یہ تھا:

’’سوال:۔ ’’الف‘‘ نے اپنی بھانجی کو اس کی والدہ کی بیماری کے دوران کچھ عرصہ تک دُودھ پلایا، اس طرح ’’ب‘‘، ’’الف‘‘ کی بھانجی ہونے کے ساتھ ساتھ رضاعی بیٹی بھی بن گئی۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا ’’الف‘‘ کے بچوں کا ’’ب‘‘ کے بچوں کے ساتھ نکاح جائز ہے؟ جبکہ ان کا تعلق فقہِ حنفیہ سے ہے۔ واضح رہے کہ اب ’’ب‘‘ کے بچے بھی جوان ہوگئے ہیں اور شادی کے قابل ہیں۔ یہاں یہ بھی وضاحت کردوں کہ کچھ مولوی حضرات نے ان کے نکاح کو ناجائز قرار دِیا ہے، جبکہ کچھ مولوی حضرات کا کہنا یہ ہے کہ ’’ب‘‘ کے بچوں کا ’’الف‘‘ کے صرف ان بچوں سے نکاح جائز نہیں ہے جو کہ ’’ب‘‘ کے ساتھ دُودھ شریک تھے۔

سوال:۔

مذکورہ نکاح کی تقریب میں شرکت کرنے والے لوگوں کی اِزدواجی حیثیت بہ رُوئے شریعت کیا رہ گئی ہے؟ اور اب انہیں کیا کرنا ہوگا؟

سوال:۔

علاقے کے خطیب صاحب کے منع کرنے پر ہم ان کے نکاح کی تقریب میں نہیں گئے، مگر پڑوسی ہونے کی وجہ سے نکاح کے بعد منعقد ہونے والی شادی کی تقریب میں چند منٹوں کے لئے گئے تھے، آپ شریعت کی رُو سے بتائیے کہ ہمارے نکاح کی حیثیت کیا رہ گئی ہے؟

سوال:۔

بحیثیت ایک مسلمان کے ہم پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں؟ کیا ہم منگنی کرنے والے جوڑے کو نکاح سے روک سکتے ہیں؟ شادی شدہ جوڑے کو شریعت کی رُو سے کیسے اس ناجائز نکاح کو ختم کرنے کو کہیں؟

جواب:۔

جب آپ لکھتے ہیں کہ: ’’ب‘‘ رضاعی بیٹی بن گئی، تو خود سوچئے کہ ماں بیٹی کی اولاد کا نکاح ہوسکتا ہے؟ یا کہیں آپ نے ہوتے دیکھا ہے؟ پھر سوال پوچھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟‘‘

گو کہ مذکورہ بالا سوال تأخیر سے شائع ہوا اور وہ انہونی ہوگئی جس کے لئے سوال پوچھا گیا تھا، مگر اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ مذکورہ نکاح ناجائز ہے۔ دراصل یہ واقعہ ہمارے پڑوس میں ہوا تھا، جس کی مخالفت نہ صرف تمام پڑوسیوں نے دبے الفاظ میں کی تھی، بلکہ محلے کی مسجد کے خطیب صاحب نے بھی واضح طور پر اس نکاح کو غیرشرعی قرار دے کر نکاح پڑھوانے سے اِنکار کردیا۔ نہ صرف یہ، بلکہ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ جو شخص یہ نکاح پڑھائے گا اور جو شخص اس نکاح کی تقریب میں بیٹھے گا، ان لوگوں کا نکاح فسخ ہوجائے گا۔ مگر لڑکے لڑکی کی ماؤں نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرکے نہ صرف وٹے سٹے میں اپنی اولاد کی شادیاں کروائیں، بلکہ چھوٹے بچوں کی منگنیاں بھی کرڈالیں۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ ان کا نکاح پڑھوانے والے مولویوں کے نکاح کی کیا حیثیت رہ گئی ہے؟ یہ واضح کردوں کہ وٹے سٹے کی شادی میں ایک جوڑے کا نکاح کراچی میں غیرمحلہ کی مسجد کے نکاح خواں اور ایک جوڑے کا نکاح متحدہ عرب اِمارات میں ہوا ہے، اس طرح دونوں نکاح خواں حضرات حقیقت حال سے بے خبر تھے۔

جواب:۔

جب نکاح خوانوں کو خبر ہی نہیں تو ان کا کیا گناہ؟ یہ لڑکے لڑکیوں کی ماؤں کا کیا دھرا ہے، اس لئے نکاح پڑھنے سے بھی یہ نکاح نہیں ہوئے، یہ دونوں بدستور بے نکاح رہیں گے اور زِنا کے مرتکب ہوں گے۔ جو خیر سے ماں بیٹی ہیں، چونکہ رضاعی ماں بیٹی کی اولادوں کا نکاح آپس میں نہیں ہوسکتا، ان دونوں لڑکے لڑکیوں کا فرض ہے کہ فوراً علیحدگی اِختیار کرلیں اور توبہ کریں۔(۱)

جواب:۔

جن لوگوں کو ان دونوں کا رِشتہ معلوم تھا اور یہ مسئلہ بھی معلوم تھا کہ رضاعی ماں اور رضاعی بیٹی کی اولاد کا آپس میں نکاح نہیں ہوتا، ان کو چاہئے کہ اپنے اِیمان اور نکاح کی تجدید کریں۔(۲) اور جن کو معلوم نہیں تھا وہ معذور ہیں۔

جواب:۔

ایسے لوگوں کی تقریب میں بھی نہیں جانا چاہئے تھا، بہرحال آپ کا اِیمان ونکاح تو ضائع نہیں ہوا، لیکن آپ نے اچھا نہیں کیا، اس پر اِستغفار کرنا چاہئے۔

جواب:۔

نکاح ہوا ہی نہیں، اس کے ختم کرنے کا کیا سوال؟ اگر ان کو روکنا آپ کے بس میں ہے تو ضرور روکنا چاہئے۔

  1. (۱) عن علی۔۔۔ إن اللہ حرَّم من الرضاعۃ ما حرَّم من النسب۔ (مشکوٰۃ ص:۲۷۳)۔
  2. (۲) لأنہ إذا رأی منکرًا معلومًا من الدین بالضرورۃ فلم ینکرہ ولم یکرھہ ورضی بہ واستحسنہ کان کافرًا۔ (مرقاۃ ج:۹ ص:۳۲۸ طبع إمدادیۃ)۔ أیضًا: ما یکون کفرًا إتفاقًا یبطل العمل والنکاح۔ (شامی ج:۴ ص:۲۴۷، باب المرتد)۔