بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رضاعت‌یعنی‌بچوں‌کو‌دُودھ‌پلانا

دُودھ‌پینے‌والی‌کی‌اولاد‌کا‌نکاح،‌دُودھ‌پلانے‌والی‌کی‌اولاد‌سے‌جائز‌نہیں

سوال:۔

’’الف‘‘ نے اپنی بھانجی کو اس کی والدہ کی بیماری کے دوران کچھ عرصہ تک دُودھ پلایا، اس طرح ’’ب‘‘، ’’الف‘‘ کی بھانجی ہونے کے ساتھ ساتھ رضاعی بیٹی بھی بن گئی۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا ’’الف‘‘ کے بچوں کا ’’ب‘‘ کے بچوں کے ساتھ نکاح جائز ہے؟ جبکہ ان کا تعلق فقہِ حنفیہ سے ہے۔ واضح رہے کہ اب ’’ب‘‘ کے بچے بھی جوان ہوگئے ہیں اور شادی کے قابل ہیں۔ یہاں یہ بھی وضاحت کردوں کہ کچھ مولوی حضرات نے ان کے نکاح کو ناجائز قرار دِیا ہے، جبکہ کچھ مولوی حضرات کا کہنا یہ ہے کہ ’’ب‘‘ کے بچوں کا ’’الف‘‘ کے صرف ان بچوں سے نکاح جائز نہیں ہے جو کہ ’’ب‘‘ کے ساتھ دُودھ شریک تھے۔

جواب:۔

جب آپ لکھتے ہیں کہ: ’’ب‘‘ رضاعی بیٹی بن گئی، تو خود سوچئے کہ ماں بیٹی کی اولاد کا نکاح ہوسکتا ہے؟ یا کہیں آپ نے ہوتے دیکھا ہے؟ پھر سوال پوچھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟