رضاعتیعنیبچوںکودُودھپلانا
رضاعیماموںبھانجیکانکاحجائزنہیں
سوال:۔
مسئلہ یہ کہ ہمارے محلے میں کسی عورت نے اپنی پڑوسن کی بیٹی کو دُودھ پلایا تھا، یا وہ لڑکی جس نے دُودھ پیا تھا، وہ شادی شدہ ہوگئی ہے، جس سے اسے ایک اولاد یعنی بیٹی پیدا ہوئی ہے، اب اس بیٹی کا نکاح اس لڑکے سے ہو رہا ہے، جس لڑکے نے اس کی والدہ کے ساتھ دُودھ پیا ہے، کیا یہ نکاح جائز ہے؟
جواب:۔
رضاعی ماموں بھانجی کا نکاح نہیں ہوسکتا، جس طرح حقیقی ماموں بھانجی کا نہیں ہوسکتا۔(۱)
- (۱) ﵟ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَآءَ ذَٰلِكُمۡ ﵞ النساء ٢٤۔

