رضاعتیعنیبچوںکودُودھپلانا
رضاعیباپکیلڑکیسےنکاحجائزنہیں
سوال:۔
سعودی عرب میں پیش آنے والے ایک واقعہ (۲۱ برس تک بہن بیوی رہی، سعودی علماء نے اس شادی کو ناجائز قرار دیا)، اس بیان کے مطابق زید نے اپنی چچی کا دُودھ پیا اور اس کی وہ چچی وفات پاگئی، اس کے چچا نے دُوسری شادی کی، دُوسری چچی کی بیٹی سے زید نے شادی کی، چونکہ سعودی علماء نے اس شادی کو ناجائز قرار دیا، حنفیہ عقیدے میں اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب:۔
یہ دُوسری لڑکی بھی اس کے چچا سے تھی، اس کا چچا ’’رضاعی باپ‘‘ تھا، اور باپ کی اولاد بہن بھائی ہوتے ہیں، اس لئے یہ لڑکی اس کی رضاعی بہن تھی۔(۱) سعودی علماء نے جو فتویٰ دیا ہے وہ صحیح ہے اور چاروں مذاہب کے علماء اس پر متفق ہیں۔
- (۱) یحرم علی الرضیع أبواہ من الرضاع واُصولھما وفروعھما من النسب والرضاع۔ (عالمگیری، کتاب الرضاع ج:۱ ص:۳۴۳، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔

