رضاعتیعنیبچوںکودُودھپلانا
بھائیکیرضاعیبہنسےنکاحجائزہے
سوال:۔
رضاعی بہن میرے اُوپر نکاح میں لینا شریعت کی رُو سے جائز نہیں ہے، لیکن میرا جو بھائی ہے اس پر کیسا ہے؟ بھائی میرے سے یا تو پہلے پیدا ہوئے ہوں یا میرے بعد جو بھائی پیدا ہوجائے اس پر نکاح میں لینا کیسا ہے؟
جواب:۔
رضاعی بہن بننے کی تین صورتیں ہیں:
۱:۔ اس لڑکی نے آپ کی والدہ کا دُودھ پیا ہو، اس صورت میں وہ آپ کی والدہ کی رضاعی بیٹی اور آپ کی اور آپ کے سب بھائی بہنوں کی رضاعی بہن ہوئی، اس لئے آپ کے کسی بھائی کا رشتہ بھی اس سے جائز نہیں۔(۱)
۲:۔ آپ نے اس لڑکی کی ماں کا دُودھ پیا ہو، اس صورت میں اس کی ماں آپ کی رضاعی ماں ہوئی اور اس کی اولاد آپ کے رضاعی بہن بھائی ہوئے، اس لئے آپ کا نکاح اس کی کسی لڑکی سے جائز نہیں،(۲) لیکن آپ کے حقیقی بھائیوں کا نکاح اس کی لڑکیوں (آپ کی رضاعی بہنوں) سے جائز ہے۔(۳)
۳:۔ آپ اور اس لڑکی نے کسی تیسری عورت کا دُودھ پیا ہے، اس صورت میں وہ عورت آپ دونوں کی رضاعی ماں ہوئی، آپ دونوں رضاعی بہن بھائی ہوئے، آپ کے حقیقی بھائیوں کا نکاح اس لڑکی سے جائز ہے۔(۴)
- (۱) یحرم علی الرضیع أبواہ من الرضاع واُصولھما وفروعھما من النسب والرضاع (إلٰی أن قال) فالکل إخوۃ الرضیع وأخواتہ وأولَادھم أولَاد إخوتہ وأخواتہ۔ (عالمگیری، کتاب الرضاع ج:۱ ص:۳۴۳)۔
- (۲) أیضًا۔
- (۳) ایضاً حاشیہ: وتحل اُخت أخیہ رضاعًا..الخ
- (۴) حوالہ گذشتہ:وکل صبیین إجتمعا...الخ و حاشیہ: وتحل اُخت أخیہ رضاعًا...الخ

