رضاعتیعنیبچوںکودُودھپلانا
رضاعیبھائیکیسگیبہناوررضاعیبھانجیسےعقد
سوال:۔
ایک عورت جس کا دُودھ ’’ت‘‘ نے پیا ہے، اور اس عورت کا دُودھ ’’ج‘‘ نے بھی پیا ہے، ’’ت‘‘ کی عمر تقریباً ۳۸ سال ہے، جبکہ ’’ج‘‘ کی عمر تقریباً ۴۵ سال ہے، مسئلہ یہ ہے کہ ’’ت‘‘ کی بیٹی کا رشتہ ’’ج‘‘ کے لئے مانگ رہے ہیں، جبکہ ’’ج‘‘ اور ’’ت‘‘ دونوں رضاعی بہن بھائی ہوگئے ہیں، دُودھ کے پینے سے، کیا یہ رشتہ شریعت کے مطابق ٹھیک ہے یا غلط؟ رشتہ ہوا یا نہیں؟
سوال:۔
۲: ایک عورت جس کا دُودھ ’’ص‘‘ نے پیا ہے اور اسی عورت کا دُودھ ’’ج‘‘ نے بھی پیا ہے، اب مسئلہ یہ ہے کہ ’’ص‘‘ کے لئے ’’ج‘‘ کی چھوٹی بہن کا رشتہ مانگ رہے ہیں، لڑکی والے کہتے ہیں کہ یہ رشتہ نہیں ہوسکتا، کیونکہ لڑکی کا بھائی ’’ج‘‘ اور لڑکا ’’ص‘‘ نے ایک ہی عورت کا دُودھ پیا ہے۔
جواب:۔
’’ت‘‘ کی بیٹی ’’ج‘‘ کی رضاعی بھانجی ہے، ان دونوں کا عقد نہیں ہوسکتا۔(۱)
جواب:۔
۲: رضاعی بھائی کی سگی بہن سے نکاح جائز ہے،اس لئے ’’ص‘‘ کا نکاح ’’ج‘‘ کی بہن سے ہوسکتا ہے۔(۲)
- (۱) فالکل إخوۃ الرضیع وأخواتہ وأولَادھم أولَاد إخوتہ وأخواتہ۔ (عالمگیری، کتاب الرضاع ج:۱ ص:۳۴۳)۔
- (۲) وتحل اُخت أخیہ رضاعًا۔ (البحر الرائق، کتاب الرضاع ج:۳ ص:۲۴۴)۔

