بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رضاعت‌یعنی‌بچوں‌کو‌دُودھ‌پلانا

رضاعی‌بھائی‌کے‌سگے‌بھائی‌سے‌شادی‌کرنا

سوال:۔

گزشتہ جمعۃ المبارک (۱۷؍مئی) کو ’’آپ کے مسائل اور اُن کا حل‘‘ میں آپ نے ایک سوال کا جواب دیا ہے، سوال کا عنوان تھا: ’’تمام اولاد رضاعی بہن بھائی ہیں‘‘ اس میں آپ نے جواب دیا کہ: ’’اس عورت کی تمام اولاد اس کے (یعنی دُودھ پینے والے بچے کے) رضاعی بہن بھائی ہیں، لہٰذا اس عورت کی کسی لڑکی سے اس کی شادی جائز نہیں۔‘‘ اور جس بات کی میں وضاحت چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ اگر اس لڑکے کا کوئی بڑا بھائی ہو، تو کیا اس عورت کی کسی لڑکی کے ساتھ اس کی شادی ہوسکتی ہے؟ یا وہ بھی رضاعی بہن بھائیوں میں شامل ہے؟ اور کیا اگر اس عورت کا کوئی لڑکا ہو تو اس کی شادی اس لڑکے (دُودھ پینے والے) کی کسی بہن سے ہوسکتی ہے؟

جواب:۔

یہ لڑکا اس عورت کا رضاعی بیٹا ہے، لہٰذا اس کی شادی اس عورت کی کسی لڑکی سے نہیں ہوسکتی۔(۱) مگر اس لڑکے کے دُوسرے بھائی جنہوں نے اس عورت کا دُودھ نہیں پیا، ان کی شادی اس عورت کی لڑکیوں سے جائز ہے۔ اسی طرح اس عورت کے لڑکوں کی شادی اس دُودھ پینے والے لڑکے کی بہنوں سے جائز ہے۔(۲)

  1. (۱) یحرم علی الرضیع أبواہ من الرضاع واُصولھما وفروعھما من النسب والرضاع (إلٰی قولہ) فالکل إخوۃ الرضیع وأخواتہ۔ وفیہ أیضًا: وتحل اُخت أخیہ رضاعًا۔ (عالمگیری، کتاب الرضاع ج:۱ ص:۳۴۳)۔
  2. (۲) وتحلّ اُخت أخیہ رضاعا۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۳۴۳، کتاب الرضاع، طبع رشیدیہ)۔