بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رضاعت‌یعنی‌بچوں‌کو‌دُودھ‌پلانا

شادی‌کے‌بعد‌ساس‌کا‌دُودھ‌پلانے‌کا‌دعویٰ

سوال:۔

میرے شوہر نے میری ماں کا دُودھ پیا تھا اور میری شادی کو تقریباً ۱۶ سال ہو رہے ہیں، اور ۱۶ سال سے یہ مسئلہ میرے لئے عذاب بنا ہوا ہے۔ میری ماں کہتی ہیں کہ: ’’تیرے شوہر نے میرا دُودھ تیرے اُوپر نہیں پیا تھا بلکہ بڑے بھائی کے ساتھ پیا تھا‘‘، اور کبھی کہتی ہیں کہ: ’’دُودھ نہیں پیا تھا بلکہ میں اس کو بہلانے کے لئے دے دیا کرتی تھی، دُودھ نہیں ہوتا تھا۔‘‘ یاد رہے کہ جب میری ماں نے میرے شوہر کو دُودھ پلایا تھا اس وقت ان کی گود میں بھی بچہ تھا جو کہ دُودھ پیتا تھا اور وہ میرے بڑے بھائی تھے۔

جواب:۔

صرف آپ کی والدہ کا دعویٰ تو قابلِ قبول نہیں، بلکہ رضاعت کا ثبوت دو ثقہ مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی شہادت سے ہوتا ہے۔(۱) پس اگر دُودھ پلانے کے گواہ موجود ہیں تو آپ دونوں میاں بیوی نہیں بہن بھائی ہیں، اور اگر گواہ نہیں ہیں تو دُودھ پلانے کا دعویٰ غلط ہے اور نکاح صحیح ہے۔

  1. (۱) والرضاع حجتہ حجۃ المال وھی شھادۃ عدلین أو عدل وعدلتین (إلٰی قولہ) وھل یتوقف ثبوتہ علٰی دعوی المرأۃ؟ الظاھر لَا لتضمنھا حرمۃ الفرج وھی من حقوقہ تعالٰی کما فی الشھادۃ بطلاقھا۔ (در مختار، باب الرضاع ج:۳ ص:۲۲۴)۔