رضاعتیعنیبچوںکودُودھپلانا
شادیکےکئیسالبعدرضاعتکادعویٰکرنا
سوال:۔
منشی فتح محمد نے اپنی لڑکی کا نکاح اپنے حقیقی پھوپھی زاد لڑکے شبیر احمد کے ساتھ شریعتِ مطہرہ کے مطابق کردیا۔ یہی نہیں بلکہ رسم ورِواج کے مطابق باقاعدہ شادی کی گئی، شادی کے وقت فتح محمد کی پھوپھی بقیدِ حیات تھیں، ان کی زندگی میں یہ شادی سراَنجام پائی۔ علاوہ ازیں فتح محمد کی پھوپھی، شادی کے بعد سات سال تک زندہ رہی، نیز فتح محمد کی پھوپھی کی وفات کے بعد بھی فتح محمد کی لڑکی سسرال کے گھر مزید پانچ سال تک خاوند کے گھر قیام پذیر رہی، اس دوران لڑکی کے چار بچے بھی پیدا ہوچکے ہیں۔ عرصہ ہوا فتح محمد کی لڑکی ایک مہلک بیماری میں مبتلا ہوکر اپاہج ہوگئی، ایسی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے لڑکی کے سسر اور اس کے جیٹھ حشمت علی نے اپاہج بیمار لڑکی سے چھٹکارا حاصل کرنے اور طلاق دینے کے لئے ایک سوچا سمجھا منصوبہ بنایا اور کہنا شروع کردیا کہ فتح محمد کی پھوپھی نے بچپن میں فتح محمد کو اَپنا دُودھ پلایا تھا، اس لئے فتح محمد کی لڑکی کا فتح محمد کی پھوپھی کے لڑکے کے ساتھ نکاح ناجائز اور شریعت کے خلاف ہوا ہے، اس لئے اپنے لڑکے شبیر احمد کا نکاحِ ثانی کرنے میں حق بجانب ہیں۔ قابلِ ذِکر بات یہ ہے کہ فتح محمد کی لڑکی کا حقیقی سسر اور جیٹھ حشمت علی اپنے دعوے کے مطابق فتح محمد کو اس کی پھوپھی کا دُودھ پلانا شرعی حیثیت سے ثابت نہیں کرسکے، آج تک ان کے دعوے کے ثبوت میں کسی مرد یا عورت نے بطور گواہ کے بیان نہیں دیا کہ ہم نے فتح محمد کو اس کی پھوپھی نے دُودھ پلاتے دیکھا ہے، ان کا دعویٰ دُودھ پلانے کا صرف زبانی ہے۔
کیا ان کے زبانی دعوے پر نکاح ناجائز ہوسکتا ہے؟ جیسا شرع شریف کا حکم ہے قرآن وحدیث کی روشنی میں تحریر فرماکر ممنون فرمائیں۔
۲:۔ کیا فتح محمد کی پھوپھی کے خاوند اور پھوپھی کے لڑکے حشمت علی کا فتح محمد کی لڑکی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے ناجائز حربہ اِستعمال کرنا جرم نہیں؟ اگر ان کا یہ اِقدام شرعی طور پر جرم ہے تو ایسے مجرموں کی شرعی طور پر کیا سزا ہوگی؟
جواب:۔
حشمت علی کا دعویٰ شرعاً، عرفاً اور اَخلاقاً غلط اور بے بنیاد ہے، نرے دعوے سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔(۱)
۳:۔ شبیر احمد کو نکاحِ ثانی کا شرعاً حق حاصل ہے،(۲) لیکن اس مقصد کے لئے جھوٹی کہانی تراشنا ناجائز اور حرام ہے، ایسے مجرموں کی سزا تکوینی طور پر اللہ تعالیٰ کے یہاں سے ملتی ہے۔
- (۱) والرضاع حجتہ حجۃ المال وھی شھادۃ عدلین أو عدل وعدلتین (إلٰی قولہ) وھل یتوقف ثبوتہ علٰی دعوی المرأۃ؟ الظاھر لَا لتضمنھا حرمۃ الفرج وھی من حقوقہ تعالٰی کما فی الشھادۃ بطلاقھا۔ (در مختار، باب الرضاع ج:۳ ص:۲۲۴)۔
- (۲) ﵟ فَٱنكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ مَثۡنَىٰ وَثُلَٰثَ وَرُبَٰعَۖ ﵞ النساء ٣۔

