بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رضاعت‌یعنی‌بچوں‌کو‌دُودھ‌پلانا

دُودھ‌پلانے‌والی‌عورت‌کی‌تمام‌اولاد‌دُودھ‌پینے‌والے‌کے‌لئے‌حرام‌ہوجاتی‌ہے

سوال:۔

میرے چھوٹے بھائی نے بچپن میں ہماری ممانی کا دُودھ پیا ہے، اب ان کی دونوں لڑکیوں سے ہم دونوں بھائیوں کی شادی کی بات چیت طے پائی ہے، میں نے بھائی کے سلسلے میں ان سے اختلاف کیا، جہاں تک میری ناقص معلومات کا تعلق ہے وہ یہ کہ کسی عورت کا دُودھ پی لینے کے بعد اس کی لڑکیوں سے دُودھ پینے والے لڑکے کا نکاح جائز نہیں ہے۔ لیکن ان کا (میرے بزرگوں کا) استدلال یہ ہے کہ دُودھ پیتے ہوئے جس کے حصے کا دُودھ پیا ہو، وہی اس کے لئے جائز نہیں، بعد کی یا پہلے کی اولاد سے نکاح ہوسکتا ہے۔ ہماری رہنمائی کرکے ہم پر اِحسان کریں، عین نوازش ہوگی۔

جواب:۔

جس بچے نے شیرخوارگی کے زمانے میں کسی عورت کا دُودھ پیا ہو وہ اس کی رضاعی ماں بن جاتی ہے، اور اس عورت کی اولاد، خواہ پہلے کی ہو یا بعد کی، اس بچے کے بہن بھائی بن جاتے ہیں۔(۱) اس لئے آپ کی رائے صحیح ہے، آپ کے بھائی کا نکاح آپ کی ممانی کی لڑکی سے جائز نہیں، آپ کے بزرگوں کا خیال غلط ہے۔

  1. (۱) یحرم علی الرضیع أبواہ من الرضاع وأُصولھما وفروعھما من النسب والرضاع (إلٰی أن قال) فالکل إخوۃ الرضیع وأخواتہ۔ (عالمگیری، کتاب الرضاع ج:۱ ص:۳۴۳، طبع رشیدیہ)۔