رضاعتیعنیبچوںکودُودھپلانا
اگردوائیمیںدُودھڈالکرپلایاتواسکاحکم
سوال:۔
ایک عورت نے ایک بچے کو دوائی میں اپنا دُودھ ڈال کر پلادیا، اب اس کا رشتہ اس عورت کی اولاد کے ساتھ جائز ہے یا نہیں؟ اس صورت میں کہ دُودھ غالب ہو۔
سوال:۔
اس صورت میں کہ دوائی دُودھ پر غالب ہو؟
سوال:۔
اس صورت میں کہ دوائی اور دُودھ دونوں برابر ہوں؟
جواب:۔
جائز نہیں۔(۱)
جواب:۔
جائز ہے۔(۲)
جواب:۔
جائز نہیں۔(۳)
- (۱) ولو خلط لبن المرأۃ بالماء أو بالدواء أو بلبن البھیمۃ فالعبرۃ للغالب، کذا فی الظھیرۃ۔ (عالمگیریہ، کتاب الرضاع ج:۱ ص:۳۴۴، طبع رشیدیہ)۔
- (۲) لو اختلط اللبن بما ذکر یعتبر الغالب فإن کان الغالب الماء لَا یثبت التحریم (إلٰی قولہ) وکذا إذا کان الغالب ھو الدواء۔ (البحر الرائق، کتاب الرضاع ج:۳ ص:۲۲۸، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔
- (۳) ولو استویا وجب ثبوت الحرمۃ لأنہ غیر مغلوب، کذا فی البحر الرائق۔ (عالمگیری، کتاب الرضاع ج:۱ ص:۳۴۴، طبع رشیدیہ، أیضًا: البحر الرائق، کتاب الرضاع ج:۳ ص:۲۲۸، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔

