رضاعتیعنیبچوںکودُودھپلانا
دسسالبعددُودھپینےسےحرمتِرضاعتثابتہونےکامطلب
سوال:۔
آپ نے یہ فرمایا تھا کہ کسی بچے نے شیرخوارگی کی مدّت میں کسی عورت کا دُودھ پیا ہو تو وہ اس عورت کا رضاعی بیٹا ہوا، اور اس عورت کے بچے اس کے دُودھ شریک بھائی بہن ہوئے، اگر اس مدّت کے بعد دُودھ پیا ہو تو وہ رضاعت کے حکم میں نہیں آتا۔ مگر ایک مولوی صاحب نے مجھے بتایا کہ: ’’نہیں، چاہے دُودھ کبھی بھی کیوں نہ پیا ہو، وہ دُودھ پینے والا یا والی نے جس عورت کا دُودھ پیا ہے اس کے رضاعی بیٹا یا بیٹی ہوگئے‘‘۔ میں نے انہیں ’’بہشتی زیور‘‘ اَز مولانا اشرف علی تھانویؒ کا حوالہ دیا اور آپ کے فیصلے سے آگاہ کیا تو انہوں نے اسی کے مسئلہ نمبر۱۴، چوتھا حصہ، صفحہ نمبر۲۱۱ کا حوالہ دیا، اس کے مطابق ایک لڑکا ہے اور ایک لڑکی، دونوں نے ایک ہی عورت کا دُودھ پیا ہے تو ان میں نکاح نہیں ہوسکتا، خواہ ایک ہی زمانے میں پیا ہو، یا ایک نے پہلے، دُوسرے نے کئی برس کے بعد، دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ اسی میں یہ بھی ہے کہ دُودھ پلانے کی مدّت اِمامِ اعظمؒ کے فتویٰ کے بموجب زیادہ سے زیادہ ڈھائی سال ہے، اگر اس کے بعد دُودھ پیا ہو تو اس عورت کی لڑکی سے نکاح دُرست ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ ’’بہشتی زیور‘‘ کے اس مسئلہ نمبر۱۴ کی وضاحت فرمادیجئے۔
جواب:۔
’’بہشتی زیور‘‘ کے اس مسئلے کا مطلب یہ ہے کہ لڑکے اور لڑکی دونوں نے مدّتِ رضاعت کے اندر دُودھ پیا ہو، خواہ لڑکے نے دس سال پہلے پیا تھا (جبکہ وہ شیرخوارگی کی حالت میں تھا) اور لڑکی نے دس سال بعد پیا ہو۔ خلاصہ یہ ہے کہ حرمت تو اسی وقت ثابت ہوگی جبکہ لڑکے اور لڑکی دونوں نے اپنی اپنی شیرخوارگی کی مدّت میں دُودھ پیا ہو۔ البتہ یہ شرط نہیں کہ دونوں نے ایک ہی وقت میں دُودھ پیا ہو۔(۱) اور اگر دونوں نے یا ان میں سے ایک نے مدّتِ رضاعت (ڈھائی سال) کے بعد دُودھ پیا تو اس سے حرمت ثابت نہ ہوگی،(۲) بلکہ دونوں کا نکاح جائز ہوگا۔
- (۱) ولَا فرق فی التحریم بین الرضاع الطاریٔ والمتقدم کذا فی المحیط۔ (عالمگیری، کتاب الرضاع ج:۱ ص:۳۴۵)۔
- (۲) إذا مضت مدۃ الرضاع لم یتعلق بالرضاع التحریم کذا فی الھدایۃ۔ (عالمگیری، کتاب الرضاع ج:۱ ص:۳۴۳)۔

