بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رضاعت‌یعنی‌بچوں‌کو‌دُودھ‌پلانا

حرمتِ‌رضاعت‌کا‌ثبوت‌دو‌گواہوں‌سے‌ہوتا‌ہے

سوال:۔

میں چھوٹا تھا تو میری والدہ صاحبہ وفات پاگئیں، اس کے کچھ عرصے کے بعد میرے والد صاحب بھی فوت ہوگئے اور دادی صاحبہ کے رحم وکرم پر پروَرِش ہوتی رہی، اب میں جوان ہوں اور پڑھا لکھا ہوں، اب میری شادی میری سب سے بڑی خالہ کی بیٹی کے ساتھ ہونا قرار پائی تھی، چونکہ ان کے ساتھ میرا ڈبل رشتہ ہے، یعنی وہ میرے تایا صاحب کے گھر میں ہیں، یعنی وہ میری تائی بھی ہے اور خالہ بھی، تو میرے تایا تو اس رشتے کے لئے راضی تھے، مگر میری خالہ کا خیال میری دُوسری خالہ کے بیٹے کے ساتھ ہے۔ لیکن جب میرے تایا نے صاف کہہ دیا کہ یہ شادی صرف میرے ساتھ ہوگی، تو چند دِن خاموش رہنے کے بعد میری نانی صاحبہ نے یہ شور مچادیا کہ میں نے بچپن میں اپنے چھوٹے ماموں کے ساتھ دُودھ پیا ہے، اس لئے یہ شادی نہیں ہوسکتی، وہ اس پر حرام ہے۔ جبکہ اس وقت ان کے پاس کوئی گواہ نہیں ہے۔ میں نے اور تایا صاحب نے ان سے پوچھا کہ بتاؤ کس کے سامنے دُودھ پلایا ہے؟ کیونکہ جب سے میری ولادت ہوئی تھی، میرے تایا صاحب یہاں موجود تھے، مگر نانی صاحبہ کی ایک ہی رَٹ ہے کہ میں نے اُن کا دُودھ پیا ہے۔ جبکہ اس کے حق میں کوئی گواہ بھی نہیں ہے، اور چونکہ میرے والدین بھی فوت ہوچکے ہیں، تو اَب ایسی صورت میں نانی صاحبہ کے زبانی دعوے سے میں منگنی ختم کردوں؟ مہربانی فرماکر اس مسئلے کا حل بتائیں۔

جواب:۔

صرف دُودھ پلانے والی کا یہ دعویٰ کہ میں نے دُودھ پلایا ہے، کافی نہیں، بلکہ دو گواہوں کا ہونا شرط ہے، اگر دُودھ پلانے کے گواہ نہیں، تو محض نانی کے کہنے سے حرمت ثابت نہیں ہوگی،(۱) اس لئے یہ نکاح جائز ہے۔ یہ تو ہوا مسئلہ! لیکن میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ اس جگہ شادی نہ کریں، دُوسری جگہ کرلیں۔

  1. (۱) والرضاع حجتہ حجۃ المال وھی شھادۃ عدلین أو عدل وعدلتین (إلٰی قولہ) وھل یتوقف ثبوتہ علٰی دعوی المرأۃ؟ الظاھر لَا، کما فی الشھادۃ بطلاقھا۔ (شامی ج:۳ ص:۲۲۴، کتاب النکاح، باب الرضاع)۔ أیضًا: ولَا یقبل فی الرضاع شھادۃ النساء منفردات وإنما یثبت بشھادۃ رجلین أو رجل وامرأتین۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۳۵۴)۔