بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رضاعت‌یعنی‌بچوں‌کو‌دُودھ‌پلانا

’’اللہ‌سے‌معافی‌مانگ‌لوں‌گا‘‘‌کہنے‌سے‌رضاعت‌کی‌حرمت‌ساقط‌نہیں‌ہوگی

سوال:۔

میری ایک دوست ہے، اس کی ماں کے کزن نے میری دوست کا اپنے والدین کے ذریعے رشتہ مانگا۔ پہلے تو انہوں نے ہاں کی، مگر بعد میں یہ رشتہ اس لئے طے نہیں ہوسکا کہ لڑکی کی ماں نے جو اپنے اس کزن سے تقریباً بارہ تیرہ سال بڑی ہے، اپنی کسی دُور پار کی چاچی کا دُودھ پیا تھا، اب رشتے دار کہتے ہیں کہ اس لڑکے نے بھی جو میری دوست کی ماں سے بارہ تیرہ سال چھوٹا ہے، اس نے بھی پیا تھا، یعنی کہ لڑکے نے بھی پیا تھا۔ جبکہ لڑکا کہتا ہے کہ ہمارے دُشمنوں نے یہ بات پھیلائی ہے اور اگر سچ بھی ہے تو اس میں میرا کیا قصور؟ اور وہ یہ بھی کہتا ہے کہ میں کسی مولانا سے مشورہ نہیں لوں گا، وہ مجھے مایوس کریں گے، میں صدقِ دِل سے خدا سے معافی مانگ لوں گا، اور شادی اس لڑکی سے ہی کروں گا۔ جبکہ میری دوست نے مجھے کہا ہے کہ تم اخبار کے ذریعے معلوم کرو، کیونکہ اگر وہ میری ماں کے ساتھ یا بعد میں دُودھ شریک ہوا تھا، اس لحاظ سے میرا ماموں لگتا ہے، کیونکہ وہ لڑکا کہتا ہے کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے، شادی اس لڑکی سے ہی کروں گا۔ آپ قرآن اور سنت کی روشنی میں بتائیں کہ رشتے طے ہوسکتے ہیں کہ نہیں؟

جواب:۔

لڑکے نے اور لڑکی کی ماں نے اگر واقعی ایک عورت کا دُودھ پیا ہے، اور گواہوں کی شہادت سے اس کا ثبوت ہے، تو دونوں کا نکاح نہیں ہوسکتا۔(۱) دو گواہوں کی شہادت سے ایسی بات کا ثبوت نہیں، محض افواہ ہے تو اس کا اِعتبار نہیں، نکاح ہوسکتا ہے۔(۲) باقی لڑکے کا یہ کہنا کہ: ’’میں مولانا سے مشورہ نہیں کروں گا، خدا سے معافی مانگ لوں گا‘‘ یہ اس کی ناسمجھی ہے، جو چیز اللہ اور رسول نے حرام کی ہے، وہ معافی مانگنے سے حلال تو نہیں ہوجائے گی۔!

  1. (۱) ان اللہ حرَّم من الرضاعۃ ما حرَّم من النسب۔ (مشکوٰۃ ص:۲۷۳)۔
  2. (۲) والرضاع حجتہ حجۃ المال وھی شھادۃ عدلین أو عدل وعدلتین۔ (شامی ج:۳ ص:۲۲۴، باب الرضاع)۔