بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رضاعت‌یعنی‌بچوں‌کو‌دُودھ‌پلانا

گود‌لئے‌ہوئے‌بچے‌کو‌ایک‌سال‌تک‌چھاتی‌لگانے‌والی‌عورت‌کی‌بچی‌سے‌اس‌بچے‌کا‌نکاح

سوال:۔

ایک خاتون جس کے ہاں تقریباً پندرہ سال سے ولادت نہیں ہوئی، تو اس خاتون نے اپنے کو بہلانے کے لئے ایک سال کا بچہ گود لیا (یعنی بچے کی پیدائش سے سال پورا ہونے تک بچہ کو سینے سے لگائے رکھا) اور دو سال بعد اس خاتون کے ہاں بچی کی ولادت ہوئی، اب بلوغت کے بعد بچہ اس خاتون کی بچی سے نکاح کا خواہش مند ہے، کیا اَز رُوئے شرع یہ نکاح جائز ہے یا نہیں؟ جبکہ اس خاتون کو علم نہیں بچے کو دُودھ اُترا ہے یا نہیں؟ ماں بچے کو بہلانے کے علاوہ بازار کا دُودھ بچے کو پلاتی تھی۔

جواب:۔

یہ بات تو اس خاتون ہی کو معلوم ہوسکتی ہے کہ بچے کی شیرخوارگی کے زمانے میں اس کا دُودھ اُترا تھا یا نہیں؟ دُودھ پیتے بچے کو جب چھاتی سے ہٹایا جاتا ہے تو عام طور سے دُودھ اس کے منہ میں محسوس کیا جاتا ہے، اور بعض اوقات منہ کے باہر بھی لگ جاتا ہے، جس عورت نے سال بھر بچے کو چھاتی سے لگائے رکھا وہی بہتر جان سکتی ہے کہ دُودھ اُترا تھا یا نہیں اُترا تھا؟ اگر اسے یقین ہو کہ نہیں اُترا تھا تو اپنی بیٹی کا نکاح اس بچے سے کرسکتی ہے، ورنہ اِحتیاط یہ ہے کہ نکاح نہ کیا جائے، واللہ اعلم!